Paternal History
امام بخش خاندان کا شجرہ نسب
گاؤں: شیر پور (تھانے والا)
تحصیل: دھوری
ضلع: بسی
ریاست : پٹیالہ -ایسٹ پنجاب
گوت: تاؤنی
جناب محمد امام بخش خاں صاحب
آپ بہت بڑے عالم دین اور بڑے زمیندار گھرانے سے تعلق رکھتے تھے۔ آپ اُن علما میں سے تھے جو متحدہ ہندوستان میں فتویٰ دیا کرتے تھے۔ آپ کو قرآن مجید اپنے ہاتھ سے لکھنے کی سعادت حاصل تھی۔
بیٹے:
جناب محمد قطب دین خاں صاحب
جناب محمد رکن دین خاں صاحب
جناب محمد قطب دین خاں صاحب
جناب محمد قطب دین خاں صاحب تحصیلدارکے ریڈر تھے۔تحصیلدار اَن پڑھ سِکھ تھا۔ اِسلیئے عملی طور پر ساری ذُمداری آپ کی ہی تھی۔ سر ہند میں ملازمت کی۔ 1914 میں حج کرنے کیلیے پیدل انڈیا سے سعودی عرب کا سفر کیا۔ جو کہ ہندستان کے 40 رُکنی قافلے کے امیر تھے جس میں 38مرد اور 2 عورتیں تھیں۔ مکہ سے واپسی پر باویہ وادی کے پڑاو پر فجر کی نماز کی جماعت کروانے کے بعد اچانک فوت ہو گئے اور دفن بھی وہی ہوئے۔ جناب محمد بھوپو خاں صاحب اُن کے بیٹے تھے اُنھوں نے اپنے والد صاحب کے فوت ہونے کا بہت زیادہ غم کیا۔ کافی سال گذرنے کے بعد اُس قافلے کی ایک عورت کے ذریعے اپنے والد صاحب کے فوت ہونے کا تفصیلی تذکرہ سن کر بے حد رنجیدہ ہوئے۔ زندگی بھر اِس واقعہ کو نہ بھولے اور جب14نومبر 1972 کو خود جج کرنے گئے تو خصوصی طور پر باویہ وادی بھی گئے وہاں پہنچ کر اُنہیں یاد کر کے اشکبار ہوئے۔ آپ نے 2 شادیاں کیں
بیٹے:
جناب غلام رسول صاحب
جناب بھوپو خان صاحب
بیٹی:
محترمہ حرمت صاحبہ
جناب محمد رُکن دین خاں صاحب
جناب محمد رُکن دین خاں صاحب پٹواری تھے - 1944 میں جب ریٹائر ہوئے تو پنشن لینے کی بجائے اپنے بھانجےمحترم رمضان صاحب کو اپنی جگہ پٹواری بنوایا۔ محترم رمضان صاحب ساری زندگی اس بات پرجناب محمد رکن دین خاں صاحب کے خاندان کا ممنون رہا۔ آپ کی بیوی کا نام محترمہ فاطمہ صاحبہ تھا جو کہ 1948 میں مہسم گجرات میں فوت ہوئیں۔
بیٹی:
محترمہ مجیداں صاحبہ (پولاں)ذوجہ محترم محمد رجب علی خاں صاحب
جناب محمد غلام رسول خاں صاحب
جناب مُحمد غلام رسول خاں صاحب پولیس میں ملازم تھے اور اَمر گڑہ انڈیا تھانے کے اِنچارج تھے۔ آپ بہت زیادہ خوبصورت اور پُرکشش شخصیت کے مالک تھے۔آپ کی شادی مُحترمہ جنت صاحبہ سے ہوئی، اور جنت صاحبہ کی قبر مہسم گجرات باغ میں ہے۔ ایک دفعہ ایک قیدی نے تھانے میں خود کشی کر لی۔ انگریز تفتیشی افسر نے آپ کی شخصیت اور خوبصورتی سے متاثر ہو کر تفتیش ختم کر دی۔ آپ19 اکتوبر 1963بروز ہفتہ کو مہسم گجرات میں باتیں کرتے کرتے فوت ہوئے اور مہسم گُجرات باغ میں مدفون ہیں
آپ نے اپنی ساری جائیدا اپنی زندگی میں ہی اپنے نواسےمحترم محمد اشرف خاں صاحب کے نام کر دی تھی۔محترم محمد اَشرف صاحب اپنے نانا جان جناب محمد غلام رسول خاں صاحب کے ساتھ ہی رہتا تھا۔ محترم مُحمد اشرف صاحب بعد اذاں ساری زمین فروخت کر کے آٹاوہ شفٹ ہوگیئے تھے۔
محترم محمد اشرف خاں صاحب کی بیوی محترمہ محمودہ صاحبہ دُخترمحترم رحمت اﷲ صاحب 28 ستمبر1961 سترہ ربیع الثانی1381 بروز جمعرات24 سال کی عُمر میں فوت ہوئی اور مہسم باغ میں مدفون ہوئیں۔
بیٹی:
مُحترمہ اصغری صاحبہ
محترمہ حُرمت صاحبہ زوجہ محترم محمد شادی خان صاحب
جناب چھجو خان صاحب کے دو بیٹے محترم محمد شادی خان صاحب اور محترم محمد غلام چشتی صاحب تھے۔ محترمہ حُرمت صاحبہ کی شادی ذیلدا رجناب چھجو خان صاحب کے بڑے بیٹے محترم محمد شادی خان صاحب سے ہوئی۔محترم محمد شادی خاں صاحب اپنی شادی کے 6 مہینے بعد فوت ہوگیئے تھے۔اُن کی کوئی اولاد نہ ہوئی۔ محترمہ حُرمت صاحبہ نے ساری زندگی دوبارہ شادی نہیں کی بلکہ اپنے سُسر جناب چھجو خان صاحب کی دوسری شادی کروا دی۔ خود اپنے دیور محترم محمد غلام چشتی خاں صاحب کی بچوں کی طرح پرورش کر تیں رہیں۔ جو کہ بعد میں زیلدار بنا۔ محترم محمد غلام چشتی خاں صاحب نے بھی ساری زندگی محترمہ حُرمت صاحبہ کی بہت زیادہ عزت و تکریم کی۔ محترمہ حُرمت صاحبہ چیچہ وطنی 9 چک میں فوت ہوئیں۔آپ کے حصے کی زمین چیچہ وطنی بائی پاس کے قریب تھی جو کہ 9 چک والوں نے فروخت کر دی۔ جناب چھجو خان حاحب کی دوسری شادی سے ایک بیٹا محترم عبدالستار صاحب اور دو بیٹیاں محترمہ جان صاحبہ اورمحترمہ غفوراں صاحبہ پیدا ہوئیں۔
محترم محمد غلام چشتی صاحب کا بیٹا محترم محمد سلیم خاں صاحب چکنمبر ایک سو نو –بارا –ایل والا ہے۔
محترمہ مجیدہ صاحبہ کی شادی محترم محمد رجب علی صاحب سے ہوئی۔آپ انڈیا میں کہرو گاوں کا نمبر دار تھے۔ آپ انڈیا سے پاکستان ہجرت کے دوران فوت ہوگیئے تھے۔ محترمہ مجیدہ صاحبہ اپنے کزن جناب بھوپو خان صاحب کے پاس مہسم گجرات میں رہنے لگی۔ محترمہ مجیدہ صاحبہ کے ہاں کوئی اولاد نہ تھی۔ بعد میں 1950 میں محترمہ مجیدہ صاحبہ ، محترم محمد قبال صاحب کے ساتھ بُچیکی میں شفٹ ہو گئیں۔ وہیں فوت اور دفن ہوئیں۔ جس کی14 ایکڑ زمین کا بعد میں عدالتوں میں کیس چلتا رہا۔ جناب بھوپو خان صاحب کی اولاد نے اپنے چچامحترم محمد اقبال صاحب کے مقابلے میں کیس جیت لیا۔
چچا محترم محمد اقبال صاحب نے دو شادیاں کیں
جناب غلام رسول خاں صاحب کی اکلوتی بیٹی کا نام محترمہ اصغری صاحبہ تھا۔آپ کی شادی محترم محمد سجاول خاں صاحب سے ہوئی۔ محترمہ اصغری صاحبہ کے دو بیٹے اور دو بیٹیاں ہوئیں۔ محترم محمد اشرف صاحب، محترم محمد غلام چشتی صاحب، محترمہ شمیم صاحبہ عرف سیلاں اور محترمہ جمیلہ صاحبہ ۔
محترمہ جمیلہ صاحبہ کی شادی محترم صوبیدار مُحمد رفیق صاحب سے ہوئی۔ مہسم میں بھی قیام کیا بعد میں کراچی شفٹ ہو گئیں۔
محترمہ جمیلہ صاحبہ کی بیٹی کی شادی مجید صاحب بہاول نگر کے چھوٹے بیٹے اظفرامین سے ہوئی۔
محترم محمد رفیق صاحب کی وفات کراچی میں 25 دسمبر 2016 کو ہوئی۔
جناب حاجی بھوپو خان صاحب 1898میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم سرہند انڈیا سے حاصل کی پٹواری کا کورس کیا ۔ 1918 میں فوج میں بھرتی ہوئے۔
تمغہ خدمت درجہ سوم جنگی انعام حاصل کیا جو کہ ماہانہ10 روپے تھا اور پنشن ماہانہ 25 روپے تھی۔ آپ مئی 1947 میں بطور نائب صوبیدار29 سال سروس کرنے کے بعد ریٹائر ہوئے۔
1947 میں ہی شیر پور انڈیا سے ہجرت کر کے مہسم گجرات پاکستان میں آے۔ آپ نے دوشادیاں کیں۔ پہلی بیوی سے دو بیٹےمحترم محمد یعقوب صاحب اور محترم بنیامین صاحب پیدا ہوئے ۔محترم بنیامین صاحب چھوٹی عمر میں ہی فوت ہو گیا تھا۔
جناب حاجی بھوپو خان صاحب کی پہلی شادی سے ادو بیٹے تھے، محترم مُحمد یعقوب خاں صاحب کی شادی محترمہ بشیراں صاحبہ سے 1941 میں ہوئی۔ مگر اولاد نہ ہوسکی۔محترم محمد یعقوب خاں صاحب بہت خوبصورت اور پُر کشش شخصیت کے مالک تھے اور اتنے طاقتور تھے کہ پورے علاقے میں اپنے تایا جان محترم محمد جعفر خاں صاحب کی طرح شادی کے موقعہ پر مقامی آبادی اُن دونوں کو خصوصی طور پر شادی بیاہ میں ساتھ لے جایا کرتی تھی تاکہ کسی بھی قسم کی زور اَزمائی کی ضرورت پڑہ جائے تو یہ بخوبی کر لیں گے۔ وہ بھاری پتھر اور لکڑی کا وزنی شہتیر با آسانی اٹھا لیا کرتے تھے۔ انگریز آرمی میں بھرتی ہوئے۔ دوسری جنگ عظیم میں مصر میں پہاڑوں پر جیپ ڈرائیو کر رہے تھے اچانک پہاڑی سے جیپ پھسل گئی اور 12 جون 1941 کو وہاں ہی فوت ہوے اور دفن بھی مصر میں ہی ہوئے۔ انگریزوں نے اپنے بہادر جوان کی اچانک موت کا بہت غم کیا۔ اُن کے والد جناب بھوپو خاں صاحب جو کہ خود بھی برٹش آرمی میں ملازم تھے اُن کو نہ بتاسکے بلکہ چُھٹی پرزبر دستی گھر بھیج دیا۔ جب جناب بھوپو خاں صاحب گھر پہنچے تو تب اُن کو اِس سانحہ کا پتہ چلا۔ جس سے جناب بھوپو خان صاحب بہت افسردہ ہوئے اور ساری زندگی اِس سانحہ کو نہ بھول سکے۔ محترم مُحمد یعقوب خاں صاحب کی پنشن 8 روپے مُقرر ہوئی
محترم حاجی مُحمد شفیع خاں صاحب29 جون 1929 میں پیدا ہوئے اور انگریز دور کے 8 جماعتیں پاس ہیں۔ محترم حاجی بھوپو خاں صاحب جب روڑکی تعینات تھے تو ان کے دونوں بڑے صاحبزادےمحترم محمد شفیع صاحب اور محترم محمد لطیف صاحب چھٹیاں گزارنے کے لئے شیرپور سے روڑکی گئے تھے تو انگریز افسر نے کہا کہ آپ کے دونوں صاحبزادے نوجوان اور صحت مند ہیں، میں ان دونوں کو برٹش رائل آرمی میں بوائے سکاؤٹس کے طور پربھرتی کر لیتا ہوں، اس طرح دونوں صاحبان 1945 میں بھرتی ہو گئے۔
پارٹیشن کے وقت فوجی کانواے کے ساتھ ہی حجرت کرکے ہی پاکستان آ گئے تھے مگر چونکہ باقی سارا خاندان ابھی انڈیا میں ہی تھا۔اِسلئے دوبارہ پاکستان سے واپس انڈیا گئے تاکہ اپنے خاندان والوں کو بحفاظت پاکستان لا سکیں۔ محترم مُحمد شفیع خاںصاحب کی انڈیا کے ریلوے اسٹیشن پر خاندان والوں سے مُلاقات ہوئی۔ آپ نے پاکستان آ کردوکان بنائی اور فوج کی نوکری کو خیر آباد کر دیا۔
جب خاندان اچھی طرح سیٹل ہو گیا۔ 1948 کو پھر دوبارہ نئے سِرے سے فوج میں بحیثیت سپاہی بھرتی ہوئے۔
پی پی او نمبر رجمنٹل نمبر اکاؤنٹ نمبر
EC. 701/72 PJO 6306 01862/A
پہلی شادی اپنے مرحوم بڑے بھائی محترم مُحمد یعقوب خاں صاحب شہید کی بیوہ محترمہ بشیراں صاحبہ سے 1946 میں شیر پور انڈیا میں ہوئی۔ جس سے ایک بیٹی محترمہ بتول صاحبہ پیدا ہوئی۔ محترمہ بشیراں صاحبہ ہجرت کے وقت اپنے گھر والوں کے ساتھ ہونے کی وجہ سے قافلے کے ساتھ پاکستان نہ آسکی اور 6 ماہ بعد پاکستان آئی مگر یہ شادی برقرار نہ رہ سکی ۔
محترم مُحمد شفیع خاں صاحب- محترمہ بشیراں صاحبہ
محترمہ بتول صاحبہ
اور آپ کی دوسری شادی مہسم گجرات میں 1950 میں محترمہ زُہرہ بیگم صاحبہ سے ہوئی۔ محترمہ زُہرہ بیگم صاحبہ کے والد صاحب کا نام صوفی محمد افضل خاں تھا ۔
اور آپ کی گوت منج تھی آپ انڈیا میں گاؤں بتھا توا، تحصیل جگرانواں ضلع لدھیانہ کی رہنے والی تھیں۔ ، آپ کے 4 بیٹے اور 4 بیٹیاں ہوئی: محترم میجر طارق محمود صاحب ، محترم طاہر فاروق صاحب ، محترم اِفتخار احمد خاں صاحب ، محترمہ شاہین پرور صاحبہ ، محترمہ طاہرہ انجم صاحبہ عرف گڈو، محترم بابر شیر صاحب ، محترمہ فرحت صاحبہ اور محترمہ نورین صاحبہ ۔
آپ انجئینیر کور کے تھے، آپ اور محترم محمد لطیف خاں صاحب اکٹھے کافی اسٹیشنوں پر رہے ہیں، ان کی دوستی بھی بے مثال تھی، ان دونوں نے ارمی سروس کے دوران دو جےوی کورس مری لوئیر ٹوپہ اور اپر ٹوپہ میں کئے، یہ کورس ایجوکیشن کے مطعلقہ ہوتے ہیں، ان کی بنیاد پر ریٹائرمنٹ کے بعد بیحثیت معلم تعیناتی ہو سکتی ہے۔
آپ نے شاہراہ ریشم پر دو سال مسلسل روڈ کنسٹرکشن سپروائزر کے طور پر بھی کام کیا، بہت مشکل کام تھا، ایک طرف گہرا دریا اور دوسری طرف بلند و بالا پہاڑ، کئی دفعہ ایسا ہوا کہ دھماکے سے جب پہاڑوں کو توڑتے تو اپنی کئی کئی گاڑیاں تباہ ہو جاتی تھیں۔
آپ نے 1965 کی جنگ بھی لاہور محاز پر بڑی بہادری سے لڑی، آپ کو جی ایچ کیو کی طرف سے تمغہ بھی ملا۔
آپ آرمی سے بطور صوبیدار1971کو رِیٹائر ہوئے۔
آپ نے حج کی سعادت بھی اپنے والدین کے ہمراہ 14 نومبر 1972 تا 23 فروری 1973 حاصل کی۔
آپ کی وفات 13 اپریل 2018، 27 رجب المرجب - شب معراج والے دن بروز جمعہ کو فیصل آباد میں ہوئی۔
محترم محمد لطیف خاں صاحب پاکستان بننے سے پہلے ہی انڈیا میں 1945 کو برٹش رائل آرمی میں بوائے سکاؤٹس کے طور پر بھرتی ہوئے، آپ کی شادی محترمہ وکیلاں صاحبہ سے 1948 مہسم گجرات میں ہوئی، محترمہ وکیلاں صاحبہ انڈیا میں گاؤں پُمسی کی رہنے والی تھیں اور آپ کی گوت وریاہ تھی۔
آپ کی یونٹ 109 انجئینر بٹالین تھی۔
آرمی میں بحثیت بوائے سکاؤٹس بھرتی ہوئے 1947 سے پہلے ، پاکستان بننے سے پہلے
مہسم گجرات میں شادی ہوئی۔ 1948
جہلم میں پوسٹ تھے، فیملی نے بھی ساتھ قیام کیا، جنگ کی وجہ سے فیملی سسرال چک مان شفٹ کرنا پڑی 1965
آپ کے بچے چک مان سےچیچہ وطنی شفٹ ہوئے 1967
یونٹ پشاور میں تھی، جنگ کے لئے پشاور سے ہیڈ سلمانکی یونٹ کے ہمراہ بائی روڈ سفر کیا 1971
فیملی کو سیالکوٹ میں ساتھ رکھا 1973
حویلیاں، ہزارہ ڈویزن بعد اذاں
ریٹائرمنٹ لی 1977
وفات 18 اکتوبر 1978
1965 کی پاک بھارت جنگ میں بہت بہادری سے لڑے مگرافسران بالا کی سیاست کی وجہ سے کسی میڈل سے محروم رہے۔ آپ بہت نفاست پسند اور با اصول تھے، لمبا قد اور خوبصورت شخصیت کے مالک تھے، آپ نے ارمی میں پوری برگیڈ میں دوڑ کے مقابلے میں اول پوزیشن حاصل کی تھی۔ آپ سروس کے اخیر میں کافی بیمار ہو گئے تھے۔ آپ 1977 کو پاکستان آرمی سے ریٹائر ہوئے۔ اور 18 اکتوبر 1978 کو چیچہ وطنی میں فوت ہوئے۔
آپ کے ہاں ایک بیٹی اور چار بیٹے پیدا ہوئے، جن کے نام محترمہ زاہدہ صاحبہ ، محترم محمد جاوید خاں صاحب ، محترم محمد ارشد خاں صاحب ، محترم محمد امجد خاں صاحب اور محترم محمد یوسف خاں صاحب ۔
محترم محمد امجد خاں صاحب چھوٹی عمر میں ہی فوت ہوگئے تھے اور چک مان گوجرنوالہ میں مدفون ہیں۔
محترمہ وکیلاں صاحبہ 11 مئی 1999 کو کینسر کے مرض کی وجہ سے لاہورکینٹ میں فوت ہوئیں اور چیچہ وطنی ایک سو –بارہ – بار- ایل میں مدفون ہیں۔
محترم محمد سلیم خاں صاحب 1937 کو شیر پور انڈیا میں پیدا ہوئے اور آپ کی شادی 27 اکتوبر 1966 کومحترم عبدالمجید صاحب اور محترمہ وکیلاں صاحبہ کی سب سے چھوٹی بیٹی محترمہ ثریا خانم صاحبہ سے مہسم گجرات میں ہوئی۔
محترمہ ثریا خانم صاحبہ انڈیا میں گاؤں کاکرا ، تحصیل دھوری اور ضلی بسی کی رہنے والی تھیں۔
محترم محمد سلیم خاں صاحب یکم دسمبر 1955 کو پاکستان آرمی میں بھرتی ہوئے، مگر کان کا کچھ مسلہ تھا جس کی وجہ سے محض تین ماہ بعد ہی15 مارچ 1956کو آرمی کو چھوڑنا پڑا۔اس وقت ریکروٹ کی تنخواہ 32 روپے تھی۔
1960 میں گجرانوالہ ٹیلیگراف آفس میں بحثیت تار میسنجر 6 مہینے کام کیا، تنخواہ 52 روپے تھی اور فی تار تقسیم 10 پیسے الاونس ملتا تھا۔
1970 میں ڈاکخانہ کا کام شروع کیا، تنخواہ 70 روپے مقرر ہوئی۔ 2001 میں جب کام چھوڑا تب تنخواہ 600 روپے تھی۔
1984 میں اس کے ساتھ ہی عشر کا کام بھی شروع کیا، تنخواہ 700 روپے تھی۔ بعد میں کم ہو کر 500 ہو گئی۔ 1993 میں عشر کا کام چھوڑنا پڑا، کیونکہ اس کام کے لیے اہلیت میٹرک کر دی گئی تھی۔ اس وقت دوبارہ تنخواہ 700 ہو گئی تھی۔
گجرات اور چیچہ وطنی میں زمیندارہ کیا،
ان کے کوئی اولاد تو نہ تھی مگر محترم محمد سلیم خاں صاحب نے اپنی دو بھتیجیوں آفیہ اور صوفیہ اور محترمہ ثریا خانم صاحبہ نے اپنی دو بھتیجیوں گلشن اور گلناز کی بڑے احسن طریقے سےپرورش کی، شادیاں کیں اور بعد میں بھی بھرپورخیال رکھا۔
محترمہ ثریا خانم صاحبہ کا اکلوتا بھائی محترم محمد ذوالفقار خاں صاحب 1982 میں فوت ہو گیا تھا ،اس کی چھوٹی بیٹی گلناز صرف چار روز کی تھی ، گلشن اور گلناز کی والدہ صاحبہ بھی 1993 میں فوت ہو گئیں جب بڑی بیٹی گلشن میٹرک کر رہی تھی، اس طرح ان بے سہارا بچیوں کا واحد سہارا بننے کے لیے محترمہ ثریا خانم صاحبہ نے مستقل رہائش ایمن آباد میں رکھ لی۔ اسی دوران گلشن ، گلناز، آفیہ اور صوفیہ کی شادیوں کے فرائض بھی ادا کیئے۔
25 فروری 2013 کو محترم محمد سلیم خاں صاحب اور محترمہ ثریا خانم صاحبہ عمرہ ادائیگی کے لئے گئے اور 13 مارچ 2013 کو واپسی ہوئی۔
خصوصی طور پر باویہ وادی بھی گئے جہاں ان کے دادا جان جناب محمد قطب دین خاں صاحب 99 سال قبل حج کی ادائیگی سے واپسی پر اچانک فوت ہوگئے تھے۔
محترمہ ثریا خانم صاحبہ 07 دسمبر 2017 کو بلڈ کینسر کی وجہ سے طویل علالت کے بعد فوت ہوئیں اور چیچہ وطنی بارہ چک میں مدفون ہیں۔
محترم مُحمد حفیظ خاںصاحب نے میٹرک تک تعلیم حاصل کی، آپ ایک مرتبہ رکاوٹ والی دوڑ میں سکول میں پہلے نمبر پر آئے تھے۔ محترم مُحمد حفیظ خاں صاحب کی شادی محترمہ شمیم اختر صاحبہ سے 2 جنوری 1966 کو مہسم گجرات میں ہوئی، بارات نے دو دن قیام کیا ، کیونکہ جب رُخصتی کا وقت ہوا تو موسم ابر الود ہو گیا، محترمہ شمیم صاحبہ کے والد صاحب نے کہا کہ بس اب بارات نہیں جائے گی کل کو ہم سامان شریکہ والوں کو دکھائیں گے پھر ہی بارات کی روانگی ہوگی۔ محترمہ شمیم صاحبہ انڈیا میں چونتا کی رہنے والی تھیں۔
محترم محمد حفیظ خاں صاحب پاکستان پوسٹ آفس میں سروس کی وجہ سے اسلام آباد اور راولپنڈی میں مقیم رہے۔
آپ دو ماہ راولپنڈی صدر بازار میں غازی آباد نزدیک مڑیڈ چوک میں رہے، مکان کا کرایہ 25 روپے تھا۔
آپ راولپنڈی ، امر پور ، مری روڈ، ناز سینما والی گلی میں بھی رہے، مکان کا کریہ 80 روپے تھا، محترم محمد حنیف خاں صاحب فیملی نے بھی ساتھ قیام کیا۔
آپ اسلام آباد سرکاری کوارٹر میں بھی 15-16 سال مقیم رہے، یہاں بھی محترم محمد حنیف خاں صاحب فیملی ساتھ رہی-
آپ دوبارہ راولپنڈی، امر پور میں ایک سال رہے، مکان کا کرایہ 180 روپے تھا۔ اور وہاں سے ہی 16 جنوری 1984 میں چیچہ وطنی شفٹ ہوئے۔
بعض ناگزیر وجوہات کی بنا پر محکمے سے وقت سے پہلے ہی پنشن لے لی۔
آپ کے ہاں پانچ بیٹیاں اور تین بیٹے پیداہوئے۔ محترمہ نجمہ فردوس صاحبہ ، محترمہ رخسانہ صاحبہ ، محترمہ ریحانہ کوثر صاحبہ ، محترمہ شبانہ صاحبہ ، محترم آصف نوید صاحب ، محترم عدیل کاشف صاحب ، محترم عامر نوید صاحب اور محترمہ سونیا صاحبہ ۔
آپ کو چیچہ وطنی شفٹ ہوئے ابھی دو ہفتے ہی گزرے تھے جب آپ کے بیٹےآصف نوید کامُلتان روڑ پر ایکسیڈینٹ ہوا اور آصف نوید موقعہ پر ہو فوت ہو گیا۔
محترم آصف نوید صاحب اپنے والد محترم محمد حفیظ خاں صاحب اور اپنے کزنز محترم سرفراز صدیق صاحب اورمحترم عمران صدیق صاحب کے ہمراہ سکول یونیفارم لینے کے لیے گاؤں سے شہر جا رہا تھا۔
محترم محمد حفیظ خاں صاحب کے بیٹےمحترم عدیل کاشف صاحب کا انتقال نو ستمبر 2009 کو ہوا۔ عدیل کاشف کوٹی بی لاحق ہو گئی تھی، آپ بہت طویل عرصہ بیمار رہے۔
محترم محمد حفیظ خاں صاحب 30 جنوری 2004 کو فوت ہوئے اور چیچہ وطنی میں مد فون ہیں۔
آنریری کیپٹن محترم مُحمد افضل خاں صاحبہ کے ساتھ ہوئی، محترمہ حاجن سعیدہ صاحبہ کےوالدین محترم محمد غلام خاں صاحب اور والدہ صاحبہ محترمہ حاکمے بی بی تھیں،
وہ انڈیا میں عثمان پور ضلع جلندھر کے رہنے والے تھے اور ان کی گوت گھوڑےواتھی۔
محترم محمد افضل خاں صاحب نےمیٹرک 1972 کو کیا456 نمبرز حاصل کیے۔
آپ بہت ہی تگڑے، خوب صورت اور چست جسم کے مالک تھے، مہسم میں ایک بڑا یاد گار کبڈی کا میچ ہوا، اس علاقے کا ایک نامی گرامی پہلوان ماپو خان تھا، میچ میں محترم محمد افضل خاں صاحب پہلوان صاحب سے نہ پکڑے گئے، اس حیران کن کارنامہ پر وہاں شور و غوغہ مچ گیا، گاؤں والوں نے خوب جشن منایا اور میچ وہاں ہی ختم ہو گیا، اسی طرح کا واقعہ اس دن بھی پیش آیا جب چار نومبر 1966کو مہسم سے سے چیچہ وطنی شفٹ ہورہے تھے، کیا دیکھا کہ گاوں کے لوگ گولہ پھینکنے کا مقابلہ کر رہے تھے کہ کون سب سے زیادہ دور گولہ پھینکتا ہے، جب آپ پاس سے گزرے اور ان سے درخواست کی کہ کیا میں بھی آپ کے ساتھ اس کھیل میں شرکت کر سکتا ہوں تو سب نے با خوشی اجازت دے دی مگر جب آپ نے پہلی ہی کوشش میں اتنی دور گولہ پھینکا کے سب ہکا بکا رہ گئے۔محترم محمد افضل خاں صاحب نے مہسم میں کچھ دیر زمیندارہ بھی کیا۔ اس سال سترہ من دال ماش کی فصل کی پیداہ وار حاصل کی اور 1.2 آنے ٹوپہ (دو سیر) کے حساب سے فروخت کی۔ آپ نے بطور آنریری کیپٹن 1961 سے 1993 تک 32 سال آرمی میں سروس کی۔
پی پی او نمبر رجمنٹل نمبر اکاؤنٹ نمبر
EME-105/93 40168 06578/A
دوران ملازمت تین سال 5 مئی 1980 سے جون 1983 تک شمالی یمن کے شہر صنعا میں بحیثیت ٹیکنیکل ٹرینر کام کیا۔ شمالی یمن میں جن مقدس مقامات کو دیکھنے کا شرف حاصل ہوا ان میں حضرت خواجہ اویس قرنی کی قبر، حضرت ایوب اور حضرت شعیب کے قبریں اور حضرت ایوب جس مقام پر مچھلی کے پیٹ سے نکلے تھے یعنی حدیبیہ بندرگاہ۔ آرمی میں ٹی کے ٹو تمغہ خدمت درجہ دوم 1990 میں بحیچیت صوبیدار حاصل کیا، تنخواہ میں 40 روپے کا اضافہ بھی ہوا، تمغہ ٹی کے ون درجہ اول 23 مارچ 1993 کو بطور صوبیدار میجر حاصل کیا، تنخواہ میں 20روپے کا اضافہ ہوا، آرمامینٹ آرٹیفیشر ڈپلومہ ای ایم ای کالج سے 19 اگست 1974 سے 10 مئی 1975 تک حاصل کیا،1983 کو 80 سی سی سوزکی موٹر سائیکل 10500 میں ساہیوال سے خریدی، ریٹائرمنٹ کے بعد 96-1995 میں ای ایم آئی سوسائٹی لاہور میں بطور اسسٹنٹ ایڈمن مینجر سروس کی، 1982 میں گاوں سے چیچہ وطنی بلاک نمبر نو گلی نمبر دو اور مکان نمبر 1440 میں شفٹ ہو گئے اور 1999 میں واپس دوبارہ گاوں آ گیے، ان کے ہاں چار بیٹیاں اور تین بیٹے ہوئے، گلناز، افشاں، سمیرا انجم، نائلہ، اصغر، نعمان اور ذیشان، آپ 27 رمضان 1441 بمطابق 21 مئی 2020 کو فوت ہوئے اور اپنے والدین کی قبروں کے عقب میں ابدی نید سوئے ہوئے ہیں۔
محترم مُحمد افضل خاں صاحب- محترمہ سعیدہ صاحبہ
محترم مُحمد صدیق خاںصاحب کی پیدائش 1 مارچ 1947کو انڈیا۔ شیر پور میں ہوئی۔ میٹرک تک تعلیم حاصل کی 18 سال کی عمر میں1 مارچ1965 کو پاکستان پوسٹ آفس دولت نگر گجرات سے بطور کلرک ملازمت شروع کی۔ ابتدائی تنخواہ 112 روپے مُقرر ہوئی اور 42 سال کی ریکارڈ طویل سروس کے بعد 28فروری 2007 کو چیچہ وطنی سے بحثیت ہیڈ پوسٹ ماسٹرپورے اعزاز کے ساتھ ریٹائر ہوئے۔اُس وقت تنخواہ 15000 روپے تھی۔ محترم مُحمد صدیق خاں صاحب کی شادی محترم ڈاکٹر کیپٹن غلام مصطفے خاں صاحب کی بیٹی محترمہ شہناز بیگم صاحبہ کے ساتھ 14 جنوری 1968 کو چیچہ وطنی میں ہوئی، محترمہ شہناز بیگم صاحبہ کے والدین انڈیا میں گاؤں مہندی پور، تحصیل گڑھ شنکر، ضلع ہوشیار پورکے رہنے والے تھے اور ان کی گوت گھوڑے واتھی۔
آپ کے 5 بیٹے اور ایک بیٹی پیدا ہوئی
محترم محمد مشتاق احمد خاں صاحب جناب حاجی بھوپو خاں صاحب کے سب سے چھوٹے بیٹے تھے۔ آپ کی تاریخ پیدائش کا صحیح معلوم نہیں مگر بڑوں سے سنا ہے، آپ 1947 میں صرف آٹھ روز کے تھے جس دن پورے خاندان نے انڈیا سے پاکستان ہجرت کی۔
آپ میونسپل کمیٹی – چونگی میں 1986 کو بھرتی ہوئے۔
آپ کی شادی اپنے بڑے ماموں محترم عبدالکریم صاحب کی بیٹی محترمہ منیراں بیگم صاحبہ کے ساتھ 1971 میں چن میں ہوئی، محترمہ منیراں بیگم صاحبہ کے والدین انڈیا میں گاؤں قولی، تحصیل راجپورہ، ضلع امبالہ کے رہنے والے تھے اور ان کی گوت اطلس تھی۔
آپکے ہاں پانچ بیٹیاں اور پانچ بیٹے پیدا ہوئے۔
محترمہ قمر جہاں صاحبہ ایک سال کی تھی جب چن میں فوت ہو گئیں اور مدفون بھی وہی ہیں۔
محترم تنویر صاحب 26 ستمبر 1976 کو پیدا ہوا اور چھوٹی عمر میں ہی چیچہ وطنی میں فوت ہو گیا تھا۔
آخری بیٹا چند روز کا ہی تھا جب 1990 میں فوت ہو گیا، اس لئے ان کا نام نہیں رکھا تھا۔
محترمہ زُبیدہ صاحبہ کی شادی محترم نور محمد صاحب سے ہوئی۔ محترم نور محمد صاحب جناب حاجی بھوپو خاں صاحب کے بڑے بھائی جناب غلام رسول صاحب کی اکلوتی بیٹی محترمہ اصغری صاحبہ کے شوہر محترم سجاول صاحب کا بھائی تھا۔انڈیا سے پاکستان ہجرت کے دوران محترم نور محمد صاحب کی والدہ صاحبہ اور بیٹی محترمہ نذیراں صاحبہ شہید ہو گئیں تھیں۔ ِن کے 4 بیٹے اور 3 بیٹیاں پیدا ہوئیں۔ محترمہ نذیراں صاحبہ، محترم عبدالمجید صاحب ، محترم غلام مصطفٰے صاحب ، محترم شفیق احمد صاحب ، محترمہ شاہدہ پروین صاحبہ ، محترمہ شہنازاختر صاحبہ عرف گڈو، اور محترم خالدمحمود صاحب عرف گوگی۔محترمہ زُبیدہ صاحبہ نے عُمرہ کی ادایئگی بھی اپنی بیٹی محترمہ شاہدہ پروین صاحبہ اور نواسے کامران کے ساتھ کی تھی۔ محترمہ زُبیدہ صاحبہ 07 جون 2007 کو بہاول نگر میں فوت ہوئیں اور وہی مدفون ہیں۔
محترمہ زُبیدہ صاحبہ – محترم نور محمد صاحب
محترم خالد محمود صاحب عرف گوگی محترمہ شہنازاختر صاحبہ عرف گڈو محترمہ شاہدہ پروین صاحبہ محترم شفیق احمد صاحب محترم غلام مصطفٰے صاحب محترم عبدالمجید صاحب محترمہ نذیراں صاحبہ
محترمہ خدیجہ صاحبہ کا نکاح محترم محمد شریف صاحب سے ہوا مگر رُخصتی ابھی نہیں ہوئی تھی۔ محترم شریف صاحب نکاح کے چند مہنیوں بعد ہی فوت ہو گے تھے۔محترم شریف صاحب محترم نور محمد صاحب کے بھانجے تھے۔
محترمہ خدیجہ صاحبہ ذوجہ محترم محمد حنیف صاحب
محترمہ خدیجہ صاحبہ کی دوبارہ شادی محترم محمد شریف صاحب کےہی چھوٹے بھائی محترم محمد حنیف صاحب سے ہوئی۔ محترمہ خدیجہ صاحبہ نہایت ہی نفاست پسند اور منکسر المزاج تھیں، کبھی آپ کی ذات سے کسی کو کوئی تکلیف نہیں ہوئی، آپ کافی عرصہ چیچہ وطنی رہتی تھیں، آپ کا قیام تو اپنی والدہ صاحبہ کے گھر ہی ہوتا تھا، مگر چیچہ وطنی میں باقی گھروں میں باقاعدگی سے جاتی تھیں۔
محترم محمد حنیف صاحب یکم جنوری1993 کو فجر کی نماز ادا کرنے کے بعد اچانک اٹاوہ میں فوت ہوئے۔ آپ کے5 بیٹے پیدا ہوئے۔ محترم محمد اکرم صاحب ، محترم محمد اسلم صاحب ، محترم محمد عبدالخالق صاحب ، محترم محمد اصغر صاحب اور محترم محمد منظور صاحب ۔
محترمہ خدیجہ صاحبہ - محترم محمد حنیف صاحب
محترم محمد منظور صاحب محترم محمد اصغر صاحب محترم محمد عبدالخالق صاحب محترم محمد اسلم صاحب محترم محمد اکرم صاحب
محترمہ خدیجہ صاحبہ کی وفات 11 دسمبر 2003 ، 16 شوال 1424 ہجری کو اچانک ہوئی۔ آپ اپنی وفات کے ایک ہفتہ پہلے چیچہ وطنی سے اٹاوہ آئیں تھی کیونکہ آپ کی ساس محترمہ مریم صاحبہ کو گھر میں گرنے سے چوٹ لگ گئی تھی ، آپ اپنے چھوٹے بیٹے محترم محمد منظور صاحب کے ساتھ رہتی تھی، آپ کو محترم محمد منظور صاحب نے سیب کھلایا اور آپ خود اپنے قدموں پر پیدل چل کران کے گھر سے محترم محمد عبدالخالق صاحب کے گھر گئیں۔وہاں جا کر اچانک طبیت خراب ہوگئی، مقامی ڈاکٹر کو گھر بلا کر چیک کروایا اور اٹاوہ ہی میں علامہ اقبال ہسپتال میں بھی لے گئے مگرآپ تھوڑی ہی دیر میں فوت ہو گئیں اور اٹاوہ میں ہی اپنے میاںمحترم محمد حنیف صاحب کی قبر کے پاس مدفون ہیں۔
محترم محمد اکرم خاں صاحب 30 دسمبر 2023 کو فوت ہوئے
جناب حاجی بھوپو خاں صاحب کے کزن محترم محمد جعفر صاحب کے بیٹے ولائیت صاحب سے جناب حاجی بھوپو خان صاحب کی چھوٹی بیٹی محترمہ ولائیتہ صاحبہ کی شادی ہوئی۔
محترمہ ولائیتہ صاحبہ ذوجہ محترم محمد ارشاد صاحب
اکہنور گاؤں
ہوشیار پور ضلع
نارو- راجپوت گوت
محترمہ ولائیتہ صاحبہ کی دوسری شادی محترم محمد ارشاد صاحب سے ہوئی۔ جس سے 2 بیٹے اور 2 بیٹیاں ہوئی۔محترمہ رُملا صاحبہ ،محترم امداد صاحب عُرف پپو، محترمہ بشریٰ صاحبہ عُرف ننھی اورمحترم شاہد صاحب عُرف ننھا
محترم محمد ارشاد صاحب جولائی / اگست 1985 کو فوت ہوئے۔
محترمہ ولائیتہ صاحبہ 11 اکتوبر 2019 کو فوت ہوئیں اور بہاول نگر میں مدفون ہیں۔
محترمہ ولائیتہ صاحبہ – محترم محمد ارشاد صاحب
محترم شاہد صاحب عُرف ننھا محترمہ بشریٰ صاحبہ عُرف ننھی محترم امداد صاحب عُرف پپو محترمہ رُملا صاحبہ
محترم امداد صاحب عُرف پپو
محترم امداد صاحب عرف پپو – محترمہ روبینہ یاسمین صاحبہ
محترم امداد صاحب نے دو شادیاں کیں، پہلی بیگم محترمہ روبینہ یاسمین امداد انتہای ملنسار اور نیک خاتون تھی لوگ اسکو جنتی عورت کہتے تھے۔
محترمہ روبینہ یاسمین 17 رمضان 2020 کو انگلینڈ میں فوت ہوئیں۔
محترمہ روبینہ یاسمین کی والدہ 4 رمضان 2020 کو انگلینڈ میں فوت ہوئیں۔
جبکہ دوسری شادی کومحترمہ کوثر یاسمین صاحبہ سے ہوئی ۔
محترم امداد صاحب عرف پپو – محترمی کوثر یاسمین صاحبہ
حظیفہ علی رانا نبیہا امداد
بڑی بیٹی نبیہا امداد 23 رمضان المبارک 2016 دن 11 بجے لاہور میں پیدا ہوئی
اور بیٹا حظیفہ علی رانا 13 رمضان المبارک 2018 دن 10 بجے لاہور میں پیدا ہوا
محترمہ رُملا صاحبہ ذوجہ محترم شاہد صاحب
محترمہ رُملا صاحبہ –محترم شاہد صاحب
محترم زین افضل صاحب محترمہ نورالعین صاحبہ عُرف نوری
محترم زین افضل صاحب 23 جنوری 1990 کو پیدا ہوئے،
محترم زین افضل صاحب ایک پاکستانی اداکار ہیں۔ وہ زیادہ تر اپنے مزاحیہ کرداروں کے لیے جانا جاتا ہے۔ وہ سنواری میں "تیمور" کا کردار ادا کرنے کے لیے مشہور ہیں۔ انہوں نے فلم ریڈی سٹیڈی نمبر میں بھی اداکاری کی تھی۔ وہ سینٹی اور مینٹل کے لیے بھی جانے جاتے تھے۔ 2018 میں، زین کو مشہور شخصیت کے ٹاک شو مذاق رات میں بھی مدعو کیا گیا تھا۔
محترمہ بشریٰ صاحبہ عرف ننھی ذوجہ محترم شاہد صاحب
محترمہ بشریٰ عرف ننھی – محترم شاہد صاحب
محترم ثقلین صاحب محترم حسنین صاحب
محترم حسنین صاحب کی شادی جنوری 2021 میں ہوئی اور ستمبر 2021 میں بیٹا پیدا ہوا۔
محترم شاہد صاحب عرف ننھا
محترم شاہد صاحب –محترمہ شگفتہ صاحبہ
آمنہ عبداللہ
محترم ولائیت صاحب کی بھی دوبارہ شادی محترمہ بشیراں صاحبہ سے ہوئی جس سے چار بیٹیاں اور ایک بیٹا پیدا ہوا۔ بیٹامحترم عبدالستار صاحب ہے جو کہ گوجرہ میں 372 بجے والی میں رہتا ہے، بیٹیاں محترمہ ارشاد بیگم صاحبہ، محترمہ شمشاد بیگم صاحبہ، محترمہ رضیہ بیگم صاحبہ اور محترمہ ثریا بیگم صاحبہ۔
محترم ولائیت صاحب – محترمہ بشیراں صاحبہ
محترمہ ثریا بیگم صاحبہ محترمہ رضیہ بیگم صاحبہ محترمہ شمشاد بیگم صاحبہ محترمہ ارشاد بیگم صاحبہ محترم عبدالستار صاحب
محترم عبدالستار صاحب
محمد کاشف خرم عامر سجاد محمد طاہر عبدل شہزاد
محترم جعفرصاحب جناب حاجی بھوپو خان صاحب کا کزن تھا۔ محترم جعفر صاحب کا بیٹامحترم ولائیت صاحب اور بیٹی محترمہ انور صاحبہ تھی ،محترم جعفر صاحب کی وفات مہسم گجرات میں ہوئی تھی۔ محترمہ انور صاحبہ مانگا منڈی میں رہتی تھی۔ محترمہ انور صاحبہ کی شادی محترم افضل صاحب سے ہوئی تھی۔
محترم جعفر صاحب- محترمہ نوراں صاحبہ
محترمہ انور صاحبہ محترم ولائیت صاحب
محترمہ انور صاحبہ ذوجہ محترم افضل صاحب
محترمہ انور صاحبہ – محترم افضل خاںصاحب
محمد ریاض خاں عرف بھولا
محترمہ انور صاحبہ مانگا منڈی میں رہتی تھی۔ محترمہ انور صاحبہ کی شادی محترم افضل صاحب سے ہوئی تھی۔
جناب حاجی بھوپو خاں صاحب اور اُن کے دو بڑے بیٹے محترم مُحمد شفیع خاں صاحب اور محترم مُحمد لطیف خاں صاحب فوجی کانوائے کا ساتھ حجرت کرکے شیر پور انڈیا سے لاہور پاکستان آ گئے۔ جناب حاجی بھوپو خاں صاحب نے اِس دوران مہسم گجرات میں زمین منتخب کر لی اور پھر اپنے بڑے بیٹےمحترم مُحمد شفیع خاں صاحب کو دوبارہ انڈیا بھیجا تاکہ باقی پورے خاندان کو بھی بحفاظت پاکستان لایا جائے۔
باقی خاندان شیر پور انڈیا سے اپنے مزارعوں حضورا سنگھ اور منشی سنگھ کی مدد سے دوعدد اونٹوں پرضروری سازوسامان کے ساتھ شیر پور سے ملیر کوٹلہ آئے۔ وہاں کچھ مہینے قیام کیا۔ ملیر کوٹلہ مُسلم ریاست تھی اور واحد ریاست تھی جہاں کوئی ایک بھی تشدد کا واقعہ رونُما نہیں ہوا۔ جبکہ پورے پنجاب میں فسادات عُروج پر تھے۔ اسی دوران پاکستان سے جناب بھوپو خاں صاحب کی درخواست پر ایک کرنل صاحب نے ایک اور فوجی کانوائے بھیجا جن کی بسوں پر بیٹھ کر انڈیا ملیر کوٹلہ سے واہگہ بارڈر کے ذریعے پاکستان پہنچے۔ لاہور والٹن کیمپ میں ایک رات قیام کیا پھر گجرات مہسم میں آ گئے۔
انڈیا میں 14 ایکڑ زمین اور 4 مکان تھے۔ گجرات میں 40 ایکڑ زمین اور 6 یا 7 مکان لئیے۔
ہجرت ثانی
جناب حاجی صوبیدار بھوپو خاں صاحب کا خاندان 19 سال مہسم گجرات میں گزارنے کے بعد 04 نومبر 1966 کو چیچہ وطنی چک نمبر ایک سو بارہ – بارہ – ایل ( بہادر گڑھ) میں منتقل ہوا۔
پہلے ٹرک پر سامان کے ہمراہ، محترم محمد سلیم خاں صاحب ، محترم محمد صدیق خاں صاحب اور محترم محمد مشتاق احمد خاں صاحب آئے، پھر 2دنوں کے بعد اسی ٹرک کے دوسرے چکر پر باقی سامان اور اہل خانہ چیچہ وطنی آئے۔
چیچہ وطنی آ کر 14 ایکڑ زرعی زمین 57000 روپے کی خریدی اور دس دس مرلے کے دو پلاٹ خریدے، ایک کی قیمت 700 روپے تھی اور دوسرے کی 300 روپے۔ آٹے کی چکی لگانے کا ارادہ کیا مگر پیسے کی ذرہ قلت کی بنا پر اس منصوبے پر عمل نہ کر سکے۔ محترمہ عزیزاں صاحبہ کے بھائی جناب عبدالکریم صاحب بھی اسی منصوبے کے لیے چن سے چیچہ وطنی آئے مگر انھوں نے اس بنا پر ارادہ ترک کر دیا کہ بہن کےگھر رہ کر کاروبار کرنا مناسب نہیں ہے۔
جناب عبدالکریم صاحب کو چکی کا پہلے ہی کافی تجربہ تھا، انڈیا میں بھی ان کا یہی کاروبار تھا۔
انڈیا میں جناب بھوپو خاں صاحب کے گاؤں شیرپورکے محلہ میں کل سترہ گھر آباد تھے، سب کے سب مسلمان گھرانے تھے، دادا جان کی نسبت سے محلے کو خان صاحباں والا محلہ کہا جاتا تھا۔ محلے کا واحد داخلی راستہ شمال کی جانب سے تھا، شروع میں پرائمری سکول آتا تھا۔
کاکا اور خوشی رانگھڑ 17 جناب بھوپو خاں صاحب کا سکول سے ملحقہ گھر، اس گھر کی خاص بات اس کی 30 خانوں والی بیٹھک تھی۔ 1
رانگھڑ ہیموں اور مادھو کا گھر، جن کی شادیاں نہیں ہوئیں تھی۔ 16
آفتاب شاہ کا گھر 15 جناب غلام رسول خاں صاحب کا گھر 2
جعفر اور نوراں کا گھر، ان کے بیٹے ولائیت کی شادی پھوپھو ولائیتہ سے ہوئی، ان کی بیٹی کا نام انور تھا 14 سردار رانگھڑ اور اس کی بیوی صدیقاً کا گھر 3
خالی پلاٹ 13 چچا محمد اقبال صاحب اور اس کی بیوی محترمہ خورشید صاحبہ کا گھر، بیٹے کا نام جمیل اور بیٹی کا نام منیراں 4
رمضان عرف جانہ گجر کا گھر، اس کے دو بیٹے اور ایک بیٹی تھی، ایک بیٹے کا نام نتھو تھا۔ 12 اماں سرخوں اور اس کے بھائی کا گھر، یہ قصبہ کے رہنے والے تھے 5
صدرو گجر کا گھر، اس کے چار بیٹے، بیداں، جمیل، فضلاں اور روشن دین جبکہ ایک بیٹی بشیراں تھی۔ 11 چچا ابراھیم کے بیٹے شبیر کا گھر، شبیر کی والدہ کا نام مجیدہ تھا جو کہ بہت عبادت گزار تھیں، اس کا بھائی بشیر دادا جان کے ساتھ ہی مہسم آیا تھا، بعد اذاں بچیکی شفٹ ہو گیا تھا۔ 6
رمضان عرف جانی جولہا 10 غلام نبی جولہا کا گھر، اس کے دو بیٹے تھے، ایک کا نام مجید تھا، جو دوسری کلاس میں پڑھتا تھا 7
کالو جولہا، اس کا ایک ہی بیٹا تھا، جس کا نام شمس عرف شمہ تھا۔ شمس کی ماں کا نام رلی اور بہن کا نام بشیراں عرف تپو تھا۔ 9 وہاں سے مڑنے کے بعد شیرو جولہا کا گھر، اس کی اماں کا نام کوڑی اور بیٹے کا نام فقریا تھا۔ فقریا کی چار بیٹیاں تھیں۔ سیبوں، شیقوں، رجو اور ثریا 8
جناب حاجی صوبیدار بھوپو خاں صاحب کا خاندان اگست 1947 کو انڈیا شیر پور سے ملیر کوٹلہ آدھی رات کو روانہ ہوا۔ پاکستان کا آزاد ملک بننے کا اعلان ہو چکا تھا۔ خاندان کا فل الحال عارضی شفٹنک کا پروگرام تھا۔ اسلئے دادا جان نے اپنے انتہائی اعتماد والے تین افراد کو وہاں ہی رہنے دیا۔ جن میں 2 مرد اور 1 عورت تھی۔ بعد ازاں پتہ چلا کہ ایک مرد اور ایک عورت کو قتل کر دیا گیا۔ جبکہ ایک مرد اپنی جان بچانے میں کامیاب رہا۔
شیر پور میں جس جگہ جناب حاجی صوبیدار بھوپو خاں صاحب کا خاندان رہائش پزیر تھا اس محلے کو خان صاحباں والا محلہ کہتے تھے۔ اس محلے میں 17 گھر آباد تھے۔ تمام گھر مسلمانوں کے تھے۔ محلے میں شمال کی جانب سے ایک ہی داخلی راستہ تھا۔ شروع میں پرائمری سکول آتا تھا۔ سکول کے ساتھ ہی اپنی بیٹھک تھی۔ بیٹھک صرف اسی وقت کھلتی تھی جب جناب حاجی صوبیدار بھوپو خاں صاحب چھٹی پر گھر آتے تھے۔ بیٹھک ماشاء اللہ اتنی بڑی تھی کہ اس کے 30 خانے تھے۔
بیٹھک کے ساتھ جناب حاجی صوبیدار بھوپو خاں صاحب کے بڑے بھائی جناب غلام رسول صاحب کا گھر تھا۔ پولیس میں ملازم تھے۔ انکا گھر بھی انکی چھٹی کے دوران ہی کھلتا تھا وگرنہ بند رہتا تھا۔
جناب غلام رسول صاحب کے گھر کے ساتھ سردار رانگڑ کا گھر تھا۔ سردار کی بیوی کا نام صدیقًا تھا۔ انکے ہاں کوئی اولاد نہیں تھی۔ اس کے اگلے والا گھر چچا محترم محمد اقبال صاحب کا تھا۔ اسکی بیوی کا نام محترمہ خورشید صاحبہ تھا۔ انکے دو بچے تھے۔ بیٹے کا نام جمیل اور بیٹی کا نام منیراں تھا۔ منیراں ٹانگوں سے معذور تھی۔
اس سے اگلے والا گھر اماں سرخو کا تھا۔ اسکا بھائی بھی اماں کے ساتھ ہی رہتا تھا۔ وہ قصبہ کا رہنے والا تھا۔ وہ بہت ہی مظبوط جسم کا مالک تھا۔ مگر اس کے ہاں بھی اولاد نہیں تھی۔
اس سے اگے چچا ابراھیم کے بیٹے شبیر کا گھر تھا۔ شبیر کا بھائی بشیر دادا جان کے خاندان کے ساتھ ہی انڈیا سے مہسم شفٹ ہوا تھا۔ ایک سال مہسم میں قیام کے بعد چچا محترم محمد اقبال صاحب کے ساتھ بچیکی شفٹ ہو گیا تھا۔ اسکی کوئی بہن نہیں تھی۔ اسکی والدہ کا نام مجیدہ تھا۔ مجیدہ بہت نیک اور عبادت گزار عورت تھی۔ جوکہ ہمہ وقت عبادت میں مصروف رہتی تھی۔ مجیدہ کے سسر کا نام بابا غلام غوث تھا۔ وہ ڈاکخانہ سے ریٹائر ہوا تھا۔ اسکی پنشن 4 روپے تھی۔ بابا جی کھویا کھانے کا بڑا شوقین تھا۔ اس کے پاس ہمہ وقت کھویا رہتا تھا۔ محلے کے بچے بھی بابا جی سے کھویا مانگ کر کھا لیتے تھے۔
اس کے اگے غلام نبی جولہا کا گھر تھا۔ اس کے 2 بچے تھے۔ ایک کا نام مجید تھا جو کہ چچا سلیم سے دو کلاسیں پیچھے یعنی دوسری کلاس میں تھا۔
اس کے بعد شیرو جولہا کا گھر تھا۔ شیرو کی ماں کا نام کوڑی تھا۔ اس کا ایک ہی بیٹا تھا جس کا نام فقریا تھا۔ اس کی چار بیٹیاں تھی جن کے نام سیبوں۔ شیقوں۔ رجو اور ثریا تھے۔ شیرو جولہا بھی ہجرت کر گیا تھا مگر ہندو اس کو واپس لے گئے کہ ہمارے کام کون کرے گا۔
وہاں سے مڑنے کے بعد کالو جولہا کا گھر تھا۔ اسکا ایک ہی بیٹا تھا۔ جس کانام شمس عرف شمہ تھا۔ وہ انڈیا سے ہجرت کر کے جلال پور آیا تھا۔ بعد ازاں وہ اپنی بیٹیوں کے پاس ( غلام محمد آباد) فیصل آباد آ گیا تھا۔ جب محترم صوبیدار میجرمحمد لطیف خاں صاحب فوت ہوئے تھے تب وہ افسوس کے لئے بھی چیچہ وطنی آیا تھا۔
شیرو جولہا کچھ عرصہ بعد شیر پور کے ساتھ والے گاؤں میں شفٹ ہو گیا تھا۔ شیرو کی بیٹیاں جب محترم صوبیدار میجرمحمد لطیف خاں کی فوتگی پر چیچہ وطنی آئیں تو انہوں نے بتایا کہ آپ لوگوں کے جانے کے بعد سکھوں اور ہندووں نے انکے ساتھ بڑا اچھا سلوک کیا اور انھوں نے شیرپور صرف اس لئے چھوڑا کیونکہ انکے ایک بچے کو ساتھ والے گاؤں میں چوکیدار کی نوکری مل گئی تھی۔
شمس عرف شمہ کی بہن کا نام بشیراں عرف تپو تھا۔ انکی ماں کا نام رلی تھا۔
اس کے اگے ایک اور جولہا کا گھر تھا جب وہ فوت ہوا تو اسکے جنازے میں ہر آنکھ اشکبار تھی۔ خواہ اسکو جانتا تھا یا نہیں کیونکہ جوان موت تھی۔ اسکا ایک بیٹا تھا جس کا نام رمضان عرف جانی تھا۔
اس سے اگے صدرو گجر کا گھر تھا۔ وہ ہجرت کر کے وہاں آیا جہاں محترم محمد شفیع خاں صاحب کی زمین ہے۔ اسکے چار بیٹے تھے۔ بیداں، جمیل، فضلاں اور روشن دین۔ اسکی ایک بیٹی بھی تھی جوکہ شادی کے بعد بورے والا آئی۔ بشیراں بھی محترم صوبیدار میجرمحمد لطیف خاں کے فوت ہونے پر آئی تھی۔
اسکے بعد رمضان عرف جاناں گجر کا گھر تھا۔اس کے دو بیٹے تھے ایک کا نام نتھو تھا دوسرے کا یاد نہیں۔ ایک بیٹی بھی تھی۔
اس کے بعد ایک خالی پلاٹ اور پھر نوراں کا گھر تھا جو دادا جان کی رشتہ داراور ولائیت صاحب کی ماں تھی۔ ولائیت کی شادی پھوپھو ولائیتہ سے ہوئی تھی۔ نوراں کا میاں مہسم گجرات آ کر فوت ہوا۔ نوراں کی ایک بیٹی کا نام انور تھا۔ وہ مانگا منڈی میں آ گئی تھی۔ اور انور کے میاں کا نام افضل تھا۔
اسکے بعد آفتاب شاہ کا گھر تھا۔جوکہ بورے والا شفٹ ہو گیا تھا۔ آفتاب ٹرانسپورٹر تھا۔ بورے سے فیصل آباد اسکی گاڑیاں چلتی تھیں۔ ایک دفعہ چیچہ وطنی بارہ چک ملنے کےلئے بھی آیا تھا۔ اسکے چار یا پانچ بچے تھے۔ جن میں سے ایک وکیل بھی تھا اور ایک بیٹا قتل ہو گیا تھا۔ بورے شفٹ ہونے کے بعد شروع شروع میں آفتاب نے سبزی بھی بیچی۔ ایک دفع وہ سکول کے پاس سے سبزی بیچتا ہوا گزر رہا تھا۔ وہاں ایک استاد بچوں کو بلاوجہ ڈانٹ رہا تھا۔ آفتاب نے رک کر دیکھا کہ استاد صاحب بچوں کو غلط پڑھا رہے ہیں اور بچوں کو ڈانٹ بھی رہے ہیں۔ آفتاب نے سکول کے اندرجا کر استاد صاحب کو بتایا کہ آپ خود تو غلط پڑھا رہے ہیں۔ استاد نے آفتاب کا شکریہ ادا کیا اور آفتاب کا تعارف پوچھا۔ آفتاب نے بتایا کہ میں سید ہوں اور پڑھا لکھا ہوں اور حالات کی وجہ سے سبزی بیچ کر گذر بسر کر رہا ہوں۔ استاد صاحب نے آفتاب کو آفر کی کہ آپ بچوں کو پڑھانا شروع کر دیں۔ اس طرح آفتاب کی تنخواں 15 روپے مقرر ہوئی۔ اسی دوران آفتاب کا ایک رشتہ دار افسر مال لگ کر بورے ٹرانسفر ہوا۔ ایک دن آفتاب اپنے اس رشتہ دار سے ملنے وہاں گیا تو اس افسر مال نے آفتاب سے کہا کہ میں آپ کو محکمہ اوقاف کے چار مربعے الاٹ کرتا ہوں۔ اسطرح آفتاب نے سکول میں پڑھانا چھوڑ دیا اورزمیندار بن گیا۔
اسکے بعد دو رانگڑ ہیموں اور مادھوں رہتے تھے۔ دونوں کی شادیاں نہیں ہوئیں تھیں۔ بوڑھے ہو کر بھی اپنے گھر کے کام کاج خود ہی کرتےتھے۔
اسکے بعد ایک اور گھر تھا جس میں کاکا اور خوشی رانگڑ رہتے تھے۔ ان میں سے ایک کی شادی ہوئی تھی دوسرے کی نہیں۔ چھوٹے چھوٹے انکے بچے تھے۔ ایک دفع شدید بارش میں کمرے کا شہتیرسیدھا اس کے اوپر گرا اور وہ وہی فوت ہو گیا۔
محترم محمد سلیم خاں صاحب کے دو کلاس فیلو کو سکول میں اکثرمار پڑتی تھی اور ماسٹر صاحب کہا کرتے تھے جس طرح محترم محمد سلیم خاں صاحب روزانہ سبق یاد کر کے آتا ہے، آپ کیوں نہیں یاد کرتے۔ ماشاءاللہ محترم محمد سلیم خاں صاحب کی یاداشت اتنی اچھی ہے کہ 83 سال کی عمر میں بھی ساری تحریر لکھوا رہے ہیں۔
جس رات شیر پور سے ہجرت کرنی تھی، دن کو مشورہ ہوا اور رات کو سارے محلے کو جگایا، ہمارے دو راک منشی اور حضورا سنگھ کے اونٹوں پر سامان لادا اور شفٹنگ شروع کی۔ سارا محلہ رو رہا تھا۔ دادا جان نے محلے والوں کو یہ کہہ کر تسلی دی آپ لوگ حوصلہ رکھیں، ہم کچھ دنوں کے بعد واپس آ جائیں گے۔ مگر محلے والے جانتے تھے کہ آزاد پاکستان کا اعلان ہو چکا ہے، اب یہ کبھی واپس نہیں آئیں گے۔ جیسے جیسے سارا سامان لوڈ ہو رہا تھا ویسے ویسے محلے کی عورتیں ایک دوسرے کے گلے لگ کر رو رہی تھیں۔
شیر پور میں اپنے آباواجداد بڑے کلیدی عہدوں پر فائز رہے تھے جس کی وجہ سے اہلیان شیر پور دادا جان کے خاندان کی بہت عزت و تکریم کرتا تھا۔ تین افراد جن کو پیچھے چھوڑا تھا ان مین ایک مائی سیداں بہت نیک خاتون تھی، ایک صدرو گجر اور ایک تایا رحمت۔ انکو دادا جان نے کہا کہ گھر، زمین اور گائے کا خیال رکھیں۔ تایا رحمت نے روتے ہوئے بعد ازاں بتایا کی ہندووں نے پہلے مائی سیداں کو قتل کیا پھر صدرو گجر کو قتل کیا، آخر میں تایا رحمت کو قتل کرنے لگے تھے کہ ہجوم میں سے کچھ سیانے آدمیوں نے کہا کہ رحمت، خان صاحب یعنی محترم حاجی بھوپو خاں صاحب کا عزیز ہے۔ اس طرح تایا رحمت کی جان بچی اور انکو محفوظ علاقے کی طرف روانہ کیا۔
نورین فرحت بابر شیر طاہرہ انجم شاہین اِفتخار احمد خاں طاہر فاروق میجر طارق محمود
محترم محمد شفیع خاں صاحب 29 جون 1929 کو پیدا ہوئے۔
محترمہ زُہرہ بیگم صاحبہ 21 جنوری 1936 کو پیدا ہوئیں۔
محترمہ زُہرہ بیگم صاحبہ کی وفات 24 نوبر 2003 کو ہوئی۔
محترم محمد شفیع خاں صاحب کی وفات 13 اپریل 2018 کو ہوئی۔
محترم میجر طارق محمود صاحب 8 ستمبر 1955 کو پیدا ہوئے-
محترم میجر طارق محمود صاحب نے دو شادیاں کیں۔ پہلی شادی محترمہ نگہت سلطانہ صاحبہ سے 6 اپریل 1983 کو کی۔
جبکہ دوسری شادی محترمہ مسرت صاحبہ سے کی۔
محترم میجر طارق محمود صاحب – محترمہ نگہت سلطانہ صاحبہ
عبدالوہاب بلال مریم
محترم سلطان محمد برکت صاحب فرام بی او آئی
محترم میجرطارق محمود صاحب کی اہلیہ محترمہ نگہت سلطانہ صاحبہ کے محترم نانا جان
مریم طارق ذوجہ محترم حسنین صاحب
مریم طارق – محترم حسنین صاحب
محمد مجتبیٰ حسنین مرہا رانا
مریم طارق 3 فروری 1985 کو پیدا ہوئیں۔
مریم طارق اور محترم حسنین صاحب کی بیٹی مرہا رانا 3 ستمبر 2021 کو پیدا ہوئی-
مریم طارق اور محترم حسنین صاحب کا بیٹا محمد مجتبیٰ حسنین 12مئی 2023 کو صبح 04:30 برطانیہ میں پیدا ہوا-
بلال طارق
بلال طارق
محمد حیدر بلال خاں عبداللہ بلال یوسف بلال
بلال طارق 7 فروری 1986 کو پیدا ہوا۔
بلال طارق کی شادی9 جنوری 2016 کو ہوئی۔
یوسف بلال 5 فروری 2017 کو پیدا ہوا۔
عبداللہ بلال یکم جون 2018 کو پیدا ہوا۔
محمد حیدر بلال خاں دو اکتوبر 2023 کو پیدا ہوا-
عبدالوہاب
عبدالوہاب
عبدالوہاب 9 ستمبر 1987 کو پیدا ہوا-
سعد زید ڈاکٹر ربعیہ آمنہ
محترم طاہر فاروق صاحب 29 نومبر 1957 کو پیدا ہوئے اور آپ نے دو شادیاں کیں۔
ربعیہ طاہر کی شادی یکم فروری 2014کو ہوئی۔
سعد طاہر یکم مئی 1997 کو پیدا ہوا-
زید طاہر 11 اکتوبر 2013 کو فوت ہوا-
ونگ کمانڈر فرحان رانا - آمنہ
بیٹا بیٹا بیٹا
پروفیسر فخر عالم - ڈاکٹر ربعیہ
بیٹی بیٹا بیٹا
محترم طاہر فاروق صاحب کی دوسری شادی محترمہ قمر النساء سے ہوئی۔
محترم طاہر فاروق صاحب - قمرالنساء
محترم افتخار احمد خاں صاحب 20 اکتوبر 1963 کو پیدا ہوئے۔
محترم افتخار احمد خاں صاحب نے دو شادیاں کیں، پہلی شادی تسنیم سے اکتوبر 1995 کو ہوئی۔
محترم افتخار احمد خاں صاحب – محترمہ تسنیم صاحبہ
دوسری شادی محترمہ صبا افتخار صاحبہ سے ہوئی۔
محترم افتخار احمد خاں صاحب – محترمہ صبا افتخار صاحبہ
طحٰہ افتخار وجہیہ افتخار طلحٰہ افتخار
محترمہ صبا افتخار صاحبہ 28 مارچ 1977 کو پیدا ہوئیں۔
محترم افتخار احمد خاں صاحب اور محترمہ صبا افتخار صاحبہ کی شادی 12 اکتوبر 2002 کو ہوئی۔
طلحہ افتخار 7 جولائی 2002 کو پیدا ہوا-
وجہیہ افتخار 27 ستمبر 2003 کو پیدا ہوئی۔
طحہٰ افتخار 21 جنوری 2009 کو گلاسگو – سکاٹ لینڈ (انگلینڈ) میں پیدا ہوا۔
سحر ناز انعم ناز فرح ناز بشریٰ ناز سمرہ ناز نقاش
محترمہ شاہین پرور صاحبہ کی شادی 31 اکتوبر 1981کو ہوئی۔
محترمہ شاہین پرور صاحبہ کا بیٹا نقاش 23 مارچ 1983 کو پیدا ہوا-
محترمہ شاہین پرور صاحبہ کی بیٹی بشریٰ ناز 1990 کو پیدا ہوئی۔
طاہرہ انجم 1965میں پیدا ہوئیں۔
طاہرہ انجم نے دو شادیاں کیں، پہلی شادی محترم ڈاکٹر عاقل صاحب سے 1989 میں ہوئی۔
طاہرہ انجم – محترم ڈاکٹر عاقل صاحب
محترمہ طاہرہ انجم صاحبہ ذوجہ محترم کرنل تیمور صاحب
جبکہ دوسری شادی محترم کرنل تیمور صاحب سے کی۔
محترمہ طاہرہ انجم صاحبہ – محترم کرنل تیمور صاحب
محترم بابر شیرصاحب 8 اگست 1970 کو پیدا ہوا-
محترم بابر شیرصاحب نے دو شادیاں کیں پہلی شادی شہلا بابر سے ہوئی۔
محترم بابر شیرصاحب – محترمہ شہلا بابر صاحبہ
وانیہ بابر حلیمہ بابر سُبحان بابر
محترم بابر شیرصاحب نے دوسری شادی محترمہ شازینہ بابر صاحبہ سے 14 فروری 2006 کو کی۔
محترم بابر شیرصاحب – محترمہ شازینہ صاحبہ
راسخ مسلم افضل شیر
شازینہ بابر 27 جولائی کو پیدا ہوئیں-
افضل شیر 23 ستمبر 2008 کو پیدا ہوا-
راسخ مسلم شیر 10 نومبر کو پیدا ہوا-
محترمہ فرحت دیبا صاحبہ فروری 1974 میں پیدا ہوئی۔
محترمہ فرحت دیبا صاحبہ اور محترم بریگیڈئر طارق جاوید صاحب کی شادی یکم فروری 1999 کو ہوئی۔
محترمہ فرحت دیبا صاحبہ – محترم بریگیڈئر طارق جاوید صاحب
فاطمہ طارق روہن طارق
محترمہ نورین کوثر صاحبہ 1975 میں پیدا ہوئی۔
محترمہ نورین کوثر صاحبہ ذوجہ – محترم کرنل خالد صاحب
شہریار خالد ولید خالد
محترم محمد یوسف خاں صاحب محترم محمد امجد خاں صاحب محترم محمد ارشد خاں صاحب محترم محمد جاوید خاں صاحب محترمہ زاہدہ صاحبہ
محترم محمد لطیف خاں صاحب 18 اکتوبر 1978 کو فوت ہوئے۔
محترمہ وکیلاں صاحبہ کی وفات 11 مئی 1999 کو ہوئی۔
محترمہ زاہدہ صاحبہ ذوجہ محترم غلام مصطفٰےصاحب
محترم غلام مصطفےٰ صاحب –محترمہ زاہدہ صاحبہ
عمر رانا میجر رضوان رانا عثمان رانا عائشہ رانا
محترم غلام مصطفٰے صاحب 10 اکتوبر 1947 کو انڈیا کے بارڈر پر رسول پور شہر میں ہجرت کے دوران پیدا ہوئے۔
محترمہ زاہدہ صاحبہ 16 جولائی 1957 کو پیدا ہوئیں۔
محترم غلام مصطفٰے صاحب اور محترمہ زاہدہ صاحبہ کی شادی 16 نومبر 1978 کو ہوئی۔
عائشہ ذوجہ محترم شہزاد مجتبےٰ صاحب
عائشہ – محترم شہزاد مجتبےٰ صاحب
احمدشہزاد
عائشہ 18 جولائی 1981 کو پیدا ہوئی۔
عائشہ اور محترم شہزاد مجتبےٰ صاحب کی شادی 11 اپریل 2004 کو ہوئی۔
احمد شہزاد 21 جون 2005 کو پیدا ہوا۔
محترم شہزاد مجتبےٰ صاحب کی وفات 17 فروری 2006 کو ہوئی۔
عائشہ ذوجہ محترم عمیر صاحب
عائشہ – محترم عمیر صاحب
موحد عبدالرفع
محترم عمیر صاحب 21 جولائی 1982 کو پیدا ہوا-
محترم عمیر صاحب اور عائشہ کی شادی 17 دسمبر 2011 کو ہوئی۔
عبدالرفع 21 اکتوبر 2012 کو پیدا ہوا-
موحد عمیر 31 اکتوبر 2016 کو پیدا ہوا۔
عثمان رانا
عثمان - صوفیہ
حلیمہ ارفہ کاشان مصطفٰے
عثمان رانا 3 اکتوبر 1983 کو پیدا ہوا۔
صوفیہ 19 جون 1985 کو پیدا ہوئی۔
عثمان رانا اور صوفیہ کی شادی 25 دسمبر 2010 کو ہوئی۔
عثمان راناکا بیٹا ،کاشان مصطفٰے 21 جون 2012 کو پیدا ہوا۔
عثمان رانا کی بیٹی ارفہ 7 دسمبر 2015 کو پیدا ہوئی۔
عثمان راناکی بیٹی حلیمہ 29 جون 2018 کو پیدا ہوئی۔
میجر رضوان رانا
میجر رضوان رانا - رابعہ
ریان رائمہ رامین
میجر رضوان رانا 24 اکتوبر 1984 کو پیدا ہوا۔
رابعہ 16 جون 1986 کو پیدا ہوئی۔
میجر رضوان رانا کی رابعہ سے شادی 26 اکتوبر 2013 کو ہوئی۔
میجر رضوان رانا کی بیٹی رائمہ 22 ستمبر 2015 کو پیدا ہوئی۔
میجر رضوان رانا کی بیٹی رامین 4 نومبر 2016 کو پیدا ہوئی۔
میجر رضوان رانا کا بیٹا ریاں 2 جون 2021 کو پیدا ہوا۔
عمر رانا
عمر رانا – متنزہ
مرہا دانیال
عمر رانا 30 مئی 1986 کو پیدا ہوا۔
عمر رانا کی شادی 27 فروری 2016 کو ہوئی۔
عمر رانا کا بیٹا دانیال 16 جون 2017 کو پیدا ہوا۔
عمر رانا کی بیٹی مرہا 20، نومبر 2020 کو پیدا ہوئی۔
محترم محمد جاوید خان صاحب
محترم محمد جاید خان صاحب – ارسلہ جاوید
ماہم فاطمہ
محترم محمد جاید خان صاحب 10 مارچ 1960 کو پیدا ہوئے۔
ارسلہ جاوید 23 اکتوبر 1979 کو پیدا ہوئی
ماہم فاطمہ 5 دسمبر 2008 کو پیدا ہوئی۔
محترم محمد جاوید خاں صاحب لائف ٹائم لائن
'10 اور 27 جولائی 2025 کو فوت ہوئے پیدا ہوئے-
اپنے ہی چک کے پرائمری سکول میں پانچویں تک پڑھے۔
تیسری کلاس میں پڑھتے تھے بکری رکھی۔
چھٹی کلاس میں تھی جب بھینس رکھی۔
تیرہ چک کے مڈل سکول میں آٹھویں تک پڑھے
' 1978 میں آرمی جوائن کی، سوا سال بعد چھوڑ دی۔
اٹھارہ -اکتوبر 1978 کو والد صاحب فوت ہوئے-
میٹرک ایم سی ہائی سکول چیچہ وطنی سے 1979 میں کیا۔
میٹر ک دو دفعہ کیا ، دوسری مرتبہ کراچی میں بھی کرنا پڑا کیونکہ کراچی سے ایف کرنے کے لئےملتان بورڈ سے میڑک کا رجسٹریشن نمبر نہیں مل سکا
ایف اے کراچی سے کیا اور 533/1100 نمبر حاصل کئے۔
کراچی چھ ماہ کے لئے 1979 میں گئے۔
اکتوبر 1980 میں پھر کراچی گیے۔
جولائی 1993 میں سعودیہ جدہ گئے۔
سعودیہ سے واپس 1996 میں آئے۔
طارق بھائی کے ساتھ 1996 میں پراپرٹی کا کام کیا۔
چیچہ وطنی واپسی 1996 کو ہوئی۔
مئی 1997 میں، تبلیغی جماعت کے ساتھ چار ماہ کے لئے گئے۔
دسمبر 1997 میں مکان بنانا شروع کیا.
مارچ 1998 میں کراچی گئے.
مارچ 1999 میں والدہ کے شدید بیمار ہونے پر کراچی سے واپسی ہوئی۔
گیارہ -مئی 1999 کو والدہ فوت ہوئیں-
دوبارہ کراچی واپسی 1999 میں ہوئی-
دسمبر 1999 میں پارکو جوائن کی-
سولہ-فروری 2003 کو شادی ہوئی۔
بائیس -دسمبر 2005 کو پیکجز لاہور جوائن کی-
اکتیس - جولائی 2008 کو پیکجز چھوڑ دی-
'2008سے 2012 تک گاؤں میں شاپ چلائی۔
'2012سے 2014 تک یوسف بھائی کے ساتھ ٹیوب ویل اور زمیندارہ میں ساتھ رہے۔
'2014 میں اپنے حصے کی زمین فروخت کی۔
' 2014میں گھر میں، کچن، گیراج اور واش روم بنوایا۔
' 2015میں یوسف بھائی نے ٹیوب ویل عامر کو فروخت کر دیا۔
'2015سے 2018 تک عامر کے ساتھ اٹیچ رہے۔
نومبر 2019 سے اکتوبر 2020 تک، زمیندارہ کیا اور ڈاکٹر صاحبہ کو پک اینڈ ڈراپ دی۔
' 2020میں کراچی گئے-
' 2 جنوری 2022 کو کراچی سے واپسی ہوئی۔
محمد ارشد خاں صاحب کی شادی اپنے ماموں یعقوب کی بیٹی پروین عرف پینو کے ساتھی دسمبر 1988 میں ہوئی ۔
محمد یوسف خان صاحب 2 جنوری 1966 کو پیدا ہوئے، اور آپ لانس نائیک کے عہدے سے پاکستان آرمی سے ریٹائر ہوئے۔
پی پی او نمبر رجمنٹل نمبر اکاؤنٹ نمبر
STC 1185/2000 6325048 09993/A
• Rank: Lance Nike
• Core: 20 Signal Battalion
• Retired: 2001
• Trade: Driver
• Regiment Police
محمد یوسف خان صاحب نے دو شادیاں کیں۔ پہلی شادی یاسمین صاحبہ کے ساتھ 4 اپریل 1994 کو ہوئی۔
محمد یوسف خان - یاسمین
اسد یوسف فہد یوسف
محمد یوسف خان کا بیٹا فہد یوسف 20 اکتوبر 1996 کو پیدا ہوا-
محمد یوسف خان کا بیٹا اسد یوسف 23 جولائی 1999 کو پیدا ہوا-
محمد یوسف خان کی دوسری شادی رقعیہ صاحبہ سے 11 اپریل 2003 کو ہوئی۔
محمد یوسف خان - رقعیہ
زارا فاطمہ عادل
محمد یوسف کا بیٹا عادل 17 دسمبر 2004 کو پیدا ہوا-
محمد یوسف خان کی بیٹی زارا 27 اکتوبر 2010 کو پیدا ہوئی۔
محترمہ وکیلاں صاحبہ ذوجہ محترم محمد لطیف خاں صاحب
محترم خیر دین صاحب- محترمہ فضل بی بی صاحبہ
محترم محمد یعقوب محترمہ وکیلاں محترم محمد غفور محترمہ خدیجہ
محترمہ خدیجہ صاحبہ
محترمہ خدیجہ صاحبہ
اعظم اکرم اشرف ارشاد فرزند صفیہ ثریا
خدیجہ مغل چک کلاں گوجرنوالہ میں رہتی ہیں۔
محترم محمد غفور صاحب
محترم محمدغفور صاحب
جمیل جمیلہ
محترم محمدغفور صاحب چک مان گوجرنوالہ میں رہتے ہیں-
جمیلہ اور جمیل دونوں فوت ہو چکے ہیں۔
محترم محمد یعقوب صاحب
محترم محمد یعقوب صاحب
اکبر انور پروین ذکریا خلیل
محترم محمد یعقوب صاحب چک مان گوجرنوالہ میں رہتے ہیں
خلیل اور اکبر فوج میں تھے۔
ذکریا کی شادی اور پروین کا نکاح اپنی پھوپھو وکیلاں کے بیٹے ارشد کے ساتھ اکٹھے ہی ہوا تھا۔
پروین کی دوسری شادی سے دو بیٹے اورایک بیٹی پیدا ہوئی۔ بڑا بیٹا بس کی ز د میں آ رہا تھا، اس کے والد نےبیٹے کو بچانے کی کوشش کی مگر دونوں باپ بیٹا بس کی زد میں آ کر فوت ہو گئے۔
محترم محمد سلیم خاں صاحب اور محترمہ ثریا خانم صاحبہ کی شادی 27 اکتوبر 1966 کو ہوئی۔
محترمہ ثریا خانم صاحبہ کی وفات 7 دسمبر 2017 کو ہوئی۔
محترم محمد حنیف خاں صاحب اور محترمہ منتظرصاحبہ کی شادی 4 جنوری 1968 کو ہوئی۔
محترم محمد حنیف خاں صاحب- محترمہ منتظرصاحبہ
فیصل حنیف صائمہ فوزیہ شازیہ
شازیہ ذوجہ محترم ڈاکڑ لیاقت صاحب
شازیہ – محترم ڈاکٹر لیاقت صاحب
دانیال معظم حرا ندا
شازیہ کی شادی چیچہ وطنی میں چوہدری دالدار صاحب کے بڑے بیٹے محترم ڈاکٹر لیاقت صاحب کے ساتھ جنوری 1989 میں ہوئی،
پہلی بیٹی ندا 28 ستمبر 1990 کو پیدا ہوئی۔
فوزیہ ذوجہ محترم بختاور صاحب عرف گڈو
فوزیہ – محترم بختاور صاحب عرف گڈو
ذویا فہد سحر اسد
فوزیہ کا بیٹا اسد مسعود خان یکم ستمبر 1995 کو پیدا ہوا-
صائمہ ذوجہ محترم اعجاز صاحب
صائمہ –محترم اعجاز صاحب
دانش اعجاز حارث سنعیہ وجاہت
صائمہ کا بیٹا وجاہت عرف وجہی یکم نومبر کو پیدا ہوا-
صائمہ کا بیٹا دانش اعجاز 26 جنوری 2006 کو پیدا ہوا۔
فیصل حنیف
فیصل حنیف - سمیرا
ابراھیم دانیہ
فیصل کا بیٹا ابراھیم 26 نومبر 2015 کو پیدا ہوا-
محترم محمد حفیظ خاں صاحب - محترمہ شمیم اختر صاحبہ
سونیا عامر نوید عدیل کاشف آصف نوید شبانہ ریحانہ کوثر رخسانہ نجمہ فردوس
محترم محمد حفیظ خاں صاحب اورمحترمہ شمیم اختر صاحبہ کی شادی 2 جنوری 1966 میں ہوئی۔
محترم محمد حفیظ خاں صاحب 30 جنوری 2004 کو فوت ہوئے۔
نجمہ فردوس ذوجہ محترم محمد منظور صاحب
نجمہ فردوس 2 جولائی 1967 کو پیدا ہوئیں۔
نجمہ فردوس - منظور
اقراء
اقراء ذوجہ محترم رانا راشد صاحب
اقراء – محترم رانا راشد صاحب
علیزے
محترم رانا راشد صاحب –اقراء کا میاں 21 مئی 1972 کو پیدا ہوا۔
اقراء منظور 7 اکتوبر 1990 کو پیدا ہوئی۔
اقراء منظور اور راشد کی شادی 15 مارچ 2015 کو ہوئی۔
علیزے راشد – اقراء کی بیٹی 28 جون 2016 کو پیدا ہوئی۔
رخسانہ ذوجہ محترم اسلم صاحب
محترم اسلم صاحب – شانہ کا میاں 30 اگست 2017 کو فوت ہوئے۔
رُخسانہ – محترم اسلم صاحب
ابوبکر طلحٰہ عنیقہ اقصیٰ
اقصیٰ اسلم
اقصیٰ اسلم 7فروری 1992 کو پیدا ہوئی۔
اقصیٰ اسلم کی شادی 10 اپریل 2016 کو ہوئی۔
اقصیٰ اسلم کا بیٹا محمد ہارون 4 اگست 2019 کو پیدا ہوا۔
اقصیٰ اسلم بیٹا 9 مارچ 2021 کو پیدا ہوا-
عنیقہ اسلم ذوجہ سرمد
عنیقہ اسلم 6 مئی 1993 کو پیدا ہوئی۔
شانہ کی بیٹی عنیقہ اسلم کی شادی سرمد کے ساتھ 21 دسمبر 2019 کو ہوئی۔
طلحٰہ اسلم
طلحٰہ اسلم 12 مارچ 1995 کو پیدا ہوا-
طلحٰہ اسلم کی شادی بانو کے ساتھ ہوئی۔
ابوبکر اسلم
ابوبکر اسلم 9 فروری 2003 کو پیدا ہوا-
ریحانہ کوثر ذوجہ محترم ذاکر صاحب
ریحانہ کوثر – محترم ذاکر صاحب
فہد ذاکر معظم ذاکر
ریحانہ کی محترم ذاکر صاحب کے ساتھ شادی 18 اکتوبر 2002 کو ہوئی۔
محترم ذاکر صاحب – ریحانہ کا میاں 2 جولائی 2019 کو فوت ہوئے-
معظم ذاکر 6 جنوری 2004 کو پیدا ہوا-
فہد ذاکر 6 جنوری 2008 کو پیدا ہوا-
شبانہ ذوجہ محترم اکرم ساجد صاحب
شبانہ – محترم اکرم ساجد صاحب
مومنہ حمنہ حسنین زید کائینات مائدہ عُرف نینی
محترم اکرم ساجد صاحب – شبانہ کا میاں 24 مئی 1968 کو پیدا ہوا۔
شبانہ کی محترم اکرم ساجد صاحب کے ساتھ شادی 6 اپریل 1994 کو ہوئی۔
شبانہ کا بیٹا 29 فروری 2000 کو پیدا ہوا-
شبانہ کا بیٹا حسنین 16 دسمبر 2005 کو پیدا ہوا-
مائدہ
مائدہ
مانال موسیٰ
شبانہ کی بیٹی مائدہ 9 مئی کو پیدا ہوئی۔
شبانہ کی بیٹی مائدہ اکرم کی شادی 18 نومبر 2018 کو ہوئی۔
مائدہ کا بیٹا موسیٰ 17 مارچ کو پیدا ہوا۔
مائدہ کی بیٹی مانال 30 جون 2021 کو پیدا ہوئی۔
کائینات
شبانہ کی بیٹی کائینات 23 مئی کو پیدا ہوئی۔
آصف نوید
آصف نوید 9 جنوری 1975 کو پیدا ہوا-
آصف نوید نےمحض 3 سال کی عمر میں شدید گرمیوں میں پہلا روزہ رکھا۔
آصف نوید 6 فروری 1984 کو فوت ہوا۔
عدیل کاشف
عدیل کاشف 25 جولائی 1977 کو پیدا ہوئے۔ شناختی کارڈ پر یہی درج ہے۔
عدیل کاشف 9 ستمبر 2009 کو فوت ہوئے۔
عامر نوید
عامر نوید - ثمرین
منحہ محمد مومن خدیجہ احمد حرم حریم فاطمہ
عامر نوید 10 مارچ 1981 کو پیدا ہوا-
ثمرین عامر 3 اگست 1991 کو پیدا ہوئی۔
عامر نوید کی شادی 18 اکتوبر 2009 کو ہوئی۔
عامر نوید کی بیٹی حریم فاطمہ 30 اکتوبر 2011 کو پیدا ہوئی۔
عامر نوید کی بیٹی حرم 29 نومبر 2013 کو پیدا ہوئی۔
عامر کا بیٹا احمد 14 جولائی 2015 کو پیدا ہوا-
عامر کی بیٹی خدیجہ 23 جنوری 2017 کو پیدا ہوئی۔
عامر کا بیٹا محمد مومن 20 اگست 2021 کو پیدا ہوا-
عامر کی بیٹی منحہ 16 دسمبر 2022 کو پیدا ہوئی۔
سونیا ذوجہ محترم ندیم صاحب
سونیا –محترم ندیم صاحب
ارسل ایشم ام ہانی ام ابیحہ
سونیا 24 فروری 1983 کو پیدا ہوئی۔
سونیا کی شادی 30 جون 2012 کو ہوئی۔
ام ابیحہ اور ام ہانی - سونیا جڑواں بیٹیاں 14 ستمبر کو پید ا ہوئیں۔
سونیا کی بیٹی ایشم ندیم 11 اپریل 2015 کو پیدا ہوئی۔
سونیا کا بیٹا ارسل 24 ستمبر 2018 کو پیدا ہوا-
ذیشان محمد علی نعمان اصغر علی کنور نائلہ سمیرا انجم افشاں گلناز
محترم مُحمد افضل خاں صاحب 22 مارچ 1941 کو پیدا ہوئے۔
محترم مُحمد افضل خاں صاحب اور محترمہ سعیدہ صاحبہ کی شادی یکم مارچ 1969 کو ہوئی۔
محترمہ سعیدہ صاحبہ 26 جنوری 2016 کو فوت ہوئیں۔
محترم مُحمد افضل خاں صاحب کی وفات 21 مئی 2020 بمطابق 27 رمضان المبارک کو ہوئی۔
گلنازذوجہ محترم صدیق صاحب
محترم صدیق صاحب–گلناز کے میاں 29 اپریل کو پیدا ہوئے۔
گلناز 29 اگست 1970 کو پیدا ہوئی۔
گلناز کی شادی 29 ستمبر 1988 کو ہوئی۔
گلناز - صدیق
آمنہ عائشہ علی مریم قرت
قرت صدیق
قرت
حسین علی حسن علی نور فاطمہ احمد ذوہا
قرت کی بیٹی ذوہا 21 فروری 2016 کو پیدا ہوئی۔
قرت کا بیٹا احمد 29 مارچ 2017 کو فوت ہوا-
قرت کی بیٹی نور فاطمہ 28 اپریل 2019 کو پیدا ہوئی۔
قرت کا بیٹا حسن علی 18 اپریل 2020 کو پیدا ہوا۔-
قرت کا بیٹا حسین علی10 جنوری 2022 کو پیدا ہوا۔
مریم صدیق ذوجہ جنید
گلناز کی بیٹی مریم صدیق یکم مارچ 1997 کو ہوئی۔
گلناز کی بیٹی مریم صدیق کی نائلہ کے بیٹےجنید سےشادی 27 مارچ 2021 کو ہوئی۔
مریم صدیق – جنید طارق
منحہ فاطمہ
مریم اور جنید کی بیٹی منحہ فاطمہ 13 جنوری 2022کی پیدا ہوئی۔
علی
علی - مہرین
گلناز کے بیٹے علی کی مہرین کے ساتھ شادی 19 مارچ 2021 کو ہوئی۔
افشاں (بانو) ذوجہ محترم نعیم صاحب
محترم نعیم صاحب – بانو کا میاں 15 دسمبر 1966 کو پیدا ہوئے۔
افشاں – بانو 9 ستمبر 1972 کو پیدا ہوئی۔
افشاں – محترم نعیم صاحب
صہیب ماہ نور عبداللہ حرا اویس
بانو کا بیٹا اویس نعیم 3 اکتوبر 1998 کو پیدا ہوا-
بانو کی بیٹی حرا نعیم 18 اکتوبر 2000 کو پیدا ہوئی اور 5 نومبر 2022 کو بے بی باجی (پاپا غفور کی بڑی بیٹی) کے بیٹے کے ساتھ ہوئی
بانو کا بیٹا عبداللہ نعیم 14 مارچ 2002 کو پیدا ہوا-
بانو کی بیٹی ماہ نور 26 اگست 2003 کو پیدا ہوئی۔
بانو کا بیٹا صہیب نعیم 29 اکتوبر 2008 کو پیدا ہوا-
نائلہ ذوجہ محترم طارق صاحب
محترم طارق صاحب–نائلہ کا میاں 7 اگست 1971 کو پیدا ہوا-
محترم طارق صاحب – محترمہ نعیمہ صاحبہ
جنید طارق
محترم طارق صاحب (محترمہ نعیمہ صاحبہ) کابیٹا جنید 11 نومبر 1998 کو پیدا ہوا-
محترم طارق صاحب کا بیٹا جنید اور گلناز کی بیٹی مریم صدیق کی شادی 27 مارچ 2021 کو ہوئی۔
نائلہ 4 نومبر 1977 کو پیدا ہوئی۔
نائلہ - طارق
ثمامہ طارق انس طارق
نائلہ کا بیٹا ثمامہ طارق 18 جنوری 2010 کو پیدا ہوا-
نائلہ کا بیٹا انس طارق 27 فروری 2006 کو پیدا ہوا۔
اصغرعلی کنور
اصغر علی کنور 15 جنوری 1978 کو پیدا ہوا-
اصغر کی شادی 26 اگست 2004 کو ہوئی۔
اصغر علی کنور -
اُسویٰ عنایہ دُعا
اصغر کی بیٹی دُعا اصغر 17 جون 2008 کو پیدا ہوئی۔
اصغر کی بیٹی عنایہ یکم اگست 2012 کو پیدا ہوئی۔
اصغر کی بیٹی اُسویٰ 25 جنوری 2015 کو پیدا ہوئی۔
محمد علی نعمان
محمد علی نعمان 28 اکتوبر 1983 کو پیدا ہوا-
محمد علی نعمان اور افشیں کی شادی 26 جنوری 2006 کو ہوئی۔
محمد علی نعمان -افشیں
علی حیدر
نعمان کا بیٹا علی حیدر 24 اگست 2010 کو پیدا ہوا-
ذیشان
ذیشان 19 ستمبر 1985 کو پیدا ہوا-
ذیشان کی پہلی شادی گلشن کے ساتھ 6 اگست 2006 کو ہوئی۔
ذیشان - گلشن
احسن ردا ایان ایمان
ذیشان کی بیٹی ایمان 3 مارچ 2008 کو ہوئی۔
ذیشان کا بیٹا ایان 2 جولائی 2009 کو پیدا ہوا-
ذیشان کی بیٹی ردا 11 نومبر 2010 کو پیدا ہوئی۔
ذیشان کا بیٹا احسن 16 دسمبر 2011 کو پیدا ہوا-
ذیشان کی دوسری شادی یکم جولائی 2012 کو فاطمہ کے ساتھ ہوئی۔
ذیشان – فاطمہ
عروہ ہادیہ
ذیشان کی بیٹی ہادیہ 21 دسمبر 2013 کو پیدا ہوئی۔
ذیشان کی بیٹی عروہ 12 جولائی 2018 کو پیدا ہوئی۔
جب سے شعوری زندگی کا آغاز ہوا۔اُس وقت سے ہمہ وقت یہ دُعا زِیر لب گُنگُناتا رہا۔
" چل چلیے اودھا در چا ملئے جیدے نام نوں لگدیا دو مماں "
اَخر کار اللہ رَبُ العزت نے آدھی دُعا قبول فرماتے ہوئے مسز شہناز بیگم کو اپنے بھائی بہنوں کے ساتھ مورخہ 22ستمبر2004 کو برائے سعادتِ عُمرہ اَپنے گھر بلا لیا۔
مگر میری اِلتجا جاری و ساری رہی۔حسبِ معمول فنانشل پوزیشن نے اجازت نہ دی۔پھر اللہ تعالیٰ سے استدا کی کہ ریٹائرمنٹ کے بعد پہلا کام عُمرہ کی سعادت نصیب ہو۔جو کہ اللہ رَبُ العِزت نے قبول فرمائی۔
میں 28 فروری 2007 کو بعد از مغرب42 سال سروس مُکمل کرنے کے بعد ریٹائر ہو کر گھر آیا۔اللہ تعالیٰ کی خصوصی مہربانی سے میری الوداعی پارٹی ایسی شاندار ہوئی جس کی محکمہ پوسٹ آفس میں مثال نہیں ملتی۔پورا عملہ بمعہ اَفسران گھر تک الوداع کر کے واپس گے۔بہت ہی زیادہ تحائف ملے۔ہر اہلکار نے جُداگانہ گفٹ دیا۔مُووی بنی اور شادیانے بجے۔ریٹائر منٹ کے بعد پہلے دِن فجر کی نماز مسجد میں ادا کرنے کے بعد مُلتان پاسپورٹ دفتر میں اپنا پاسپورٹ بنوانے کے لیے روانہ ہو گیا۔مُلتان پاسپورٹ اَفس میں عزیزم رانا طاہر نے بُہت مدد اور خدمت کی اور 2 ہفتوں کے بعد رانا طاہر پاسپورٹ گھر پر ہی لے آیا۔
پاس پورٹ ملنے پر مُتعلقہ کاغذات بمہ 42600 روپے عزیزم مُعاذبیٹا باقر خان صاحب ماموں زکریٰ اعجاز کو اِسلام آباد بھجواہ دیے۔ اُنھوں نے بہت ہی اچھے پیکج پر عُمرہ کے لیے ویزہ لگوا دیا۔ اِس طرح اللہ اللہ کر کے مورخہ 23 اپریل 2007کووہ گھڑی نصیب ہوئی جسکا عرصہ تقریباَ 40 سال سے خواہش اور اِنتظار تھا۔
لاہور ایر پورٹ سے شام 8 بجے فلائی کیا۔
Passport No: NQ4107131
Visa No: 2101336625
Dated: 28-03-2007 ~ 17-04-2007
مورخہ 19 اپریل 2007 کو بمعہ بیگم بذریعہ مُوسیٰ پاک ٹرین روانہ ہوئے۔ جو کہ واپسی تک رائےونڈ بچوں کے پاس رہیں، چند دِن کیلیے وہ ڈجکوٹ بھی گیئں، پرواز پی کے 759 ٹھیک 08:15 رات کو لاہور ائیرپورٹ سے روانہ ہوئی اور سعودیہ ٹائم کے مطابق رات 11:16 کو جدہ لینڈ ہوئی۔ یہاں کاغذات کی دیکھ بھال میں بُہت ٹائم لگا۔ برکیف 3 بجے صُبح مکہ مُعظمہ پُہنچا۔ہوٹل دارِحمودی میں قیام مِلا۔ جو کہ خانہ کعبہ سے بُہت نزدیک ہے اور سیدہا راستہ ہے۔ بابِ عبدالعزیز جسکا نمبر 1 ہے جبکہ کُل گیٹ 99 ہیں۔ گُلزار احمد جو کہ گُجرات سے تُعلق رکھتا ہے نے بُہت اچھا استقبالیہ دیا۔ وُضو بنایا اور عِشا کی نماز ہوٹل میں ہی ادا کی۔ بُہت ہی ذوق شوق سے خانہ کعبہ میں حاضری کے لیے روانہ ہوا۔عُمرہ کیا۔ فجر کی نماز خانہ کعبہ میں باجماعت ادا کی۔اللہ تعالیٰ کی خصوصی رِحمت سے2 ہفتے قیام کے دوران تمام نمازیں باجماعت ادا ہوئیں۔بعد از نماز فجر صفا مروہ پر سعی کی۔ سعی کو پینتیس منٹ وقت لگا۔ سعی کرنے کے بعد سر منڈوایا۔کرنسی تبدیل کروائی۔ کرنسی ریٹ 16.24 روپیہ ہے۔5100روپیہ کے بدلے 313.50 ریال ملے۔ صُبح سات بجے رائیونڈ فون کر کے تسلی اور مُبارک دی۔
مورخہ 24 اپریل 2007 کو بعد از نماز ظُہر دوسرا عُمرہ مُحترم ابا جی مرحوم کی طرف سے کیا۔
مورخہ 25 اپریل 2007 کوتیسرا عُمرہ محترمہ ماں جی مرحومہ کی طرف سے ادا کیا۔ اکبر دوست عمران سے فون پر رابطہ ہوا۔ اُس نے بعد از نماز عِشا ملنے کا وعدہ کیا۔ مگر نہ آیا۔دوبارہ فون کیا تو سرد مہری دکھائی۔
مورخہ 26 اپریل 2007 کو زیارت پر جانے کا عزم کیا۔ مگر پاکستانی ڈرائیور نہ مل پایا۔ بُہت وقت ضائع کیا۔ مگر بے سود۔ معلوم ہوا کہ سعودی ڈرئیوروں نے اجارہ داری بنا رکھی ہے۔مدینہ حاجی عبدالرشید کو فون کیا۔ وہ بُہت ہی زیادہ خوش ہوا۔ وہ مدینہ میں بُہت ہی شدت سے مُنتٖظر ہے۔گھرفون کیا تو ارسلہ بیٹی نے حاجی مقصود کا بدلہ ہوا نمبر لکھوایا۔جس سے اُس سے رابطہ ہو گیا۔حاجی مقصود سے رابطہ کیا ہوا اُس نے تو سر پر بٹھا لیا۔ پاکستان فون کر کے بہت سے لوگوں سے اپنی خوشی کا اظہار کیا۔اپنی رہائش پر لے گیا۔ دوپہر کا کھانا کھلایا۔ بڑی کو شش اور مِحنت سے چارجر ڈھونڈ کرلایا۔جو کہ میں نے دس ریال کا خریدا۔ سم مُجھے نہ لینے دی۔ بلکہ اپنی طرف سے سم اور بیلنس 20 ریال دیا۔ جو کہ واپسی تک ختم نہیں ہوا۔اُس نے بُہت زیادہ اپنائیت کا مُظاہرہ کیا۔ اُس کی ڈیوٹی چونکہ حرم پاک میں صفائی پر ہے۔اِسلیے اُس کی وجہ سے حرم پاک کو اوپر اور نیچے سے خوب دیکھا۔بُہت سی معلومات میں حضور ؐ کی جائے پیدائش دیکھی۔جو کہ بند تھی۔ وہاں پر آجکل لائبریری ہے۔ مسجدِ جن دیکھی۔ جنتِ الموی قبرستان دیکھا۔شِہر مکہ کی پیدل سیر کی۔
مورخہ 27 اپریل 2007 کو بروز جمعۃالمُبارک بعد از نماز اشراق زیارت کے لیے نکلا۔ 10 ریال کرایہ دیا۔غارِ ثور۔منٰی۔عرفات۔مسجدِ نمرہ۔جبلِ رحمت اور غارِ حرا دیکھی۔غار ثور اور غارِ حرا پر چڑھ کردیکھنے کا اِشتیاق تو ہے مگر وقت کی کمی آڑے آئی۔جبلِ رحمت پر چڑھ کر نفل ادا کئے۔چیچہ وطنی، رائیونڈ اور ڈجکوٹ فون کئے۔واپس آکر جمعۃالمُبارک کعبۃاللہ میں ادا کیا۔کتنی بڑی سعادت ہے۔لفظوں میں ادا نہیں کیا جا سکتا۔مدینہ شریف کیلئے تیاری کی۔ حاجی مقصود نے راستے کیلئے فروٹ دیا۔ 15:15 بجے بذریعہ کوچ مدینہ شریف کیلئے روانگی ہوئی۔مکہ سے روانگی کے بعد16:00 بجے پہلا شہر الجموم آیا۔وادی خصیص میں 16:50 بجے عصر کی نماز ادا کی۔پھر 18:10 بجے الدبیار جگہ آئی۔ یہاں پر مغرب کی نماز ادا کی۔22:15بجے سرکار دو عالم رِحمت عالمین کے شہر مدینہ منورہ پُہنچا۔مسجدِ نبوی 10 بجے بند ہو جاتی ہے۔رہائش دارِابو حسین میں ملی۔یہ جگہ مسجدِ -نبوی کے بُہت ہی قریب اور سامنے ہے۔رہائش پر ہی نمازِ عِشا ادا کی۔
مورخہ 28 اپریل 2007 کو صُبح صُبح تہجد کی نماز مسجد نبوی میں جا کر ادا کی۔ کیا شان ہے، الفاظ میں بیان کرنے میں قاصر و عاجز ہوں، روضہ رسول پر حاضری ہوئی۔ بڑی سعادت کی بات ہے۔ 10:30 بجے غُسل کیا۔ کپڑے بدلے۔ ایک سوٹ دُھلائی کے لیے دیا۔ ریٹ 6 ریال ہے۔ شام کو حاجی عبدالرشید صاحب آے۔ ساتھ میں بُہت سا کھانا لاے۔ مِل کر کھایا۔مسجدِ نبوی میں شفیق اور بابر جو کہ نعیم کے بھائی ہیں سے مُلاقات ہوئی۔
مورخہ 29 اپریل 2007 بعد از نماز اشراق جنت البقیع میں حاضری دی۔یہ بُہت بڑا قبرستان ہے۔ تقریباَ سارا گھوم پھر کر دیکھا۔
مورخہ 30 اپریل 2007 بروز سوموار صُبح 08:10 بجے زیارات پر گیا۔ 10 ریال کرایہ ہے۔ مگر ڈرائیور پاکستانی نہیں مل سکا۔ جبلِ اُحد پر گے۔ جنگ اُحد والی جگہ دیکھی۔ وہ جگہ بھی دیکھی جہاں پر تیر انداز بلا اجازت مالِ غَنیمت اکٹھا کرنے میں مشغول ہو گئے تھے۔مسجد قبلہ تعین گیا۔یہ وہ مسجد ہے جہاں نماز کی حالت میں قبلہ تبدیل کرنے کا حُکم آیا تھا۔یہاں 2 نفل ادا کئے۔ سعودی ڈرائیور ہونے کی وجہ سے مذید کُچھ نہ دیکھ سکے۔ جبلِ اُحد کے دامن سے 36 عدد نسبحیاں 18 ریال میں خرید کیں بعد از نماز عصر حاجی عبد الرشید آے۔ اُن کے ساتھ منڈی جا کر8 کلو کھجور 60 ریال میں خریدیں۔ آج روم میٹ سے ایک بیگ 10 ریال میں خریدا۔ پی آئی اے کے آفس سیٹ ریزوریشن کے لئے گیا مگر انہوں نے چند دن بعد آنے کا کہا۔ رات کا کھانا پھر حاجی عبدالرشید صاحب نے کھلایا۔
مورخہ 01 مئی 2007 کو مسجد نبوی کی پیمائش کی کورڈ ایرا 1500 فٹ ہے اور 1000 فٹ چوڑا ہے، ڈجکوٹ بات ہوئی، شہناز ان دنوں ڈجکوٹ ہے، ساہیوال بے بی شاھدہ سے بات ہوئی۔ مزید 2 درجن تسبیحاں 15 ریال میں خریدیں۔
مورخہ 02 مئی 2007 بروز بُدہ صُبح 6 بجے بابر کا فون آیا کہ صدیق، ننھی اور بچے آے ہوئے ہیں۔اُن سے اُن کی رہائش میں مُلاقات ہوئی۔ صُبح کا ناشتہ اُن کے ساتھ کیا۔صدیق نے تقریباَ پانچ، چھ کلو کھجوریں، ایک بیگ اور 6 عدد جانماز زبردستی دئیے۔ بیگ 35 ریال کا ہے۔ اور جانماز 44 ریال کے آے۔ بعد از نماز مغرب گوگی خالدکا فون آیا۔
مورخہ 03 مئی 2007 بروز جمعرات بعد از نماز اشراق جنت البقیغ خوب گھوم پھر کر دیکھا۔ یہاں پر بھی لحد نکالتے ہیں۔بعد از نماز عصر حاجی عبدالرشید بخار کی حالت میں آے۔اُس کے پاس چونکہ گاڑی اپنی ہوتی ہے۔ اِس
لیے اُس کے ساتھ پھر پی آئی اے کے دفتر گئے۔ معلوم ہوا کہ مورخہ 08 مئی 2007 کو فلائٹ نمبر پی کے 760 بوقت 1 بجے رات کنفرم ہے۔
مورخہ 04 مئی 2007 بروز جمہ مسجد نبوی میں بُہت رش ہے۔ معلوم ہوا کے لوکل لوگ جمعہ کی نماز مسجد نبوی میں بڑے اہتمام سے ادا کرنے کیلئے جمع ہوتے ہیں۔ بعد از نماز جُمعہ بابو عبدالجبار اور ظہیر ملنے کے لئے آئے۔ آج پھر بابو عبدالجبار کے ساتھ زیارات پر گیا۔رات کا کھانا بھی اُنھی کے ساتھ کھایا۔بُہت تردد کیا۔رات دیر تک بیٹھے رہے۔حاجی عبد الرشید بھی آ گئے۔ اُنھوں نے گھر کیلئے 1150 ریال دئیے۔ کُچھ سامان۔ ایک کلو کھجوریں اور ایک پیکٹ صابن۔ بابو عبدالجبار نے بھی گھر کیلئے ایک کیمرہ دیا۔
مورخہ 05 مئی 2007 بروز ہفتہ 3 بجے بعد از نماز ظُہر بذریعہ بس واپس مکہ مُعظمہ کے لئے واپسی ہوئی۔ بابو عبدالجبار سوار کرا کر گیا۔03:30 بجے مسجد میقاۃ میں عصر کی نماز ادا کی۔ پھر کسی نامعلوم مُقام پر مسجد میں مغرب اور عِشا کی نماز باجماعت ادا کیں اور 9 بجے مکہ مُعظمہ واپس اُسی بلڈنگ دار حمدی میں کمرہ بدل کر مل گیا۔
مورخہ 06 مئی 2007 بروز اتوار صُبح 3 بجے حرم پاک میں حاضری ہوئی۔ آج قدرے بارش ہوئی۔ایک حرم پاک۔دوسری رحمت کی بارش۔کیا خوب نظارے ہیں۔دوپہر کا کھانا حاجی مقصود لایا۔جو کہ بُہت پُر تُکلف ہے۔ شام تک ساتھ رہا۔اُس نے اپنے گھر کے لیئے کئی ایک تحائف دئیے۔ مُجھے بھی ایک سوٹ زبردستی دیا۔اور 10 لیٹر کا ایک کین پیک کر کے اَبِ زم زم کا بھی دیا۔
مورخہ 07 مئی 2007 بروز سوموار صُبح بعد از نماز فجر الوداعی طواف کیا۔حجرِاسود کو بوسہ دینے کی بُہت کوشش کی۔ مگر ناکام رہا۔دراصل عورتیں آڑے آ گیں۔برکیف ملتزم کا بُہت مُوقع ملا۔ حطیم اور مقامِ ابراھیم پر بھی نوافل ادا کیے۔ آج تقریباَ 11 بجے دن ڈاکٹر شاہد صاحب کا فون آیا۔ بعد از نماز عصر جدہ کے لئے روانگی ہوئی۔ڈرائیور ستیانہ ضلع فیصل آباد کا ہے۔اُس نے بُہت کمال مہر بانی کی کہ جدہ میں ساحلِ سمندر کی بھی سیر کروائی۔ سُمندر کے اندر محل بنے دیکھے۔ مصنوعی جھیل سمندر سے نکال کر لائی ہوئی دیکھی۔ شہر بھی دیکھا۔جدہ کافی بڑا شہر ہے۔ایر پورٹ رات 08:15 بجے پُہنچے۔ ایرپورٹ پر مغرب اور عِشا کی نمازیں ادا کیں۔بُہت دیر تک لاونج میں انتظار کرنا پڑا۔ چونکہ فلائیٹ کا ٹائم رات 1 بجے کا ہے۔
رات 01:30 پر جہاز چلا۔ اور لاہور ایرپورٹ پر مورخہ 08 مئی 2007 صُبح 8 بجے لینڈ ہوا۔شہناز۔جاوید۔اعجاز۔عدنان۔خُرم۔ تنویر اور آپا صفیہ ایر پورٹ پر موجود تھے۔بذریعہ ٹیکسی رائیونڈ تقریباَ 10 بجے پُہنچ گئے۔شام کو حکیم عبدالوحید صاحب بمعہ مسز مُلاقات کےلئے تشریف لائے۔
مورخہ 09 مئی 2007 کو لاہور گیا۔ مُصطفےٰ شاہ۔رانا اکرم اور فقیر محمد سے مُلاقات ہوئی اور اُن کو تبرکات دیئے۔دوپہر کا کھانا رانا اکرم کے ساتھ کھایا۔ فقیر محمد واپس ٹھوکر نیاز بیگ چھوڑ گیا۔واپس شام کو رائیونڈ آ گیا۔
مورخہ 10 مئی 2007 بذریعہ موسےٰ پاک پارلر کی سیٹس پر 08:10 بجے صُبح گھر کے لئیے بمعہ بیگم صاحبہ روانہ ہوا۔ چیچہ وطنی11:40 بجے ٹرین پُہنچی۔ سبھی گھر والے استقبال کے لئے موجود ہیں۔ جبکہ چیچہ وطنی پوسٹ آفس کا تمام سٹاف بھی ریلوے اسٹیشن آیا ہوا ہے۔ اصغر کی وین پر گھر پُہنچ گئے۔ بالاآخر ایک عظیم۔مُبارک اور با سعادت سفر کے بعد گھر کو واپسی ہوئی۔
دعا ہے کے اللہ ربُ العزت ہر مُسلمان کو اِس سفر باسعادت کی توفیق عطا فرمائے۔
آمین ثمہ آمین
کاؤلی گاؤں
راجپورہ تحصیل
پٹیالہ ضلع
پٹیالہ- ایسٹ پنجاب ریاست
اطلس-تاؤنی گوت
محترم دسوندے خاں صاحب
محترم محمد شریف صاحب محترمہ شریفاں صاحبہ محترمہ عزیزاں صاحبہ محترم عبدالکریم صاحب
محترم عبدالکریم صاحب
محترم عبدالکریم صاحب کی شادی محترمہ بشیراں صاحبہ عُرف بشیری سے ہوئی۔ آپ کے ہاں ایک بیٹا اور ایک بیٹی تھی۔ بیٹے کا نام محترم کلیم صاحب اور بیٹی کا نام محترمہ منیراں صاحبہ تھا۔جس کی بعد اذاں جناب بھوپو خان صاحب کے سب سے چھوٹے بیٹےمحترم محمد مُشتاق احمد صاحب سے شادی ہوئی۔
محترمہ بشیراں صاحبہ ذوجہ محترم سراج دین صاحب
محترمہ بشیراں صاحبہ کی پہلی شادی محترم سراج دین صاحب سے ہوئی تھی، جس سے ایک بیٹی محترمہ کنیزہ صاحبہ پیدا ہوئی تھی۔
محترم سراج دین صاحب – محترمہ بشیراں صاحبہ
محترمہ کنیزہ صاحبہ
محترمہ بشیراں صاحبہ ذوجہ عبدالکریم صاحب
محترم عبدالکریم صاحب- محترمہ بشیراں صاحبہ
محترمہ منیراں صاحبہ محترم کلیم صاحب
محترم کلیم صاحب – محترمہ ارشادصاحبہ
سدرہ مصباح اقراء سمیع اللہ مطیع اللہ
اقراء ذوجہ طاہر
اقراء- طاہر
ام ہانی
سدرہ ذوجہ مبشر
سدرہ – مبشر
امیر حمزہ
مصباح ذوجہ ذیشان
مصباح – ذیشان
مرہا آسیہ
محترمہ شکوری صاحبہ ذوجہ شفیع صاحب
محترمہ بشیر ی صاحبہ کی بہن کا نام محترمہ شکوری صاحبہ تھا جس کے میاں کا نام محترم شفیع صاحب تھا۔
محترمہ شکوری صاحبہ – محترم شفیع صاحب
ان کے ہاں کوئی اولاد نہیں تھی۔
محترمہ منیراں بیگم صاحبہ ذوجہ مشتاق احمدخاں صاحب
محترم مشتاق احمد خاں صاحب- محترمہ منیراں بیگم صاحبہ
آخری بیٹے کا نام نہیں رکھا علی صوفیہ حسن آصفہ قیصر آفیہ تنویر نازیہ قمر جہاں
جناب حاجی بھوپو خاں صاحب کی بیوی جناب دسوندے خاں صاحب کی بیٹی تھی۔تحصیل راجپورہ۔ضلع امبالہ۔ریاست پٹیالہ کی رہنے والی تھی۔ اس وقت کے رواج کے مطابق بیٹیاں شادی کےبعد سال ہا سال گزرنے کے بعد واپس اپنے والدین کے گھر جاتی تھیں، اسی لئے محترمہ عزیزاں صاحبہ بھی جب اپنی شادی کے بعد پہلی دفعہ اپنے والدین کے گھر گئیں اس وقت تک آپ کی تین بیٹیاں پیدا ہو چکی تھیں۔
محترم بھوپو خان صاحب – محترمہ عزیزاں صاحبہ
محمد مشتاق احمد خاں صاحب محمد صدیق خاں صاحب محمد افضل خاں صاحب مشرف صاحبہ محمد حفیظ خاں صاحب محمد حنیف خاں صاحب محمد سلیم خاں صاحب محمد لطیف خاں صاحب محمد شفیع خاں صاحب ولائیتہ صاحبہ خدیجہ صاحبہ زبیدہ صاحبہ
محترمہ حاجن عزیزاں صاحبہ 19 دسمبر1993 کومسجد میں عِشاءَ کی اذان ہو رہی تھی اِس دوران فوت ہوئیں اور چیچہ وطنی 12 چک میں مدفون ہیں۔جناب دسوندے خان صاحب 1947 کو انڈیا سے پاکستان حجرت میں چن ،تحصیل نور پور تھل، ضلع خوشاب شفٹ ہو گئے۔ محترمہ حاجن عزیزاں صاحبہ چار بہن بھائی تھے۔ محترمہ عزیزاں صاحبہ ،محترم عبدالکریم صاحب ،محترمہ شریفاں صاحبہ اور محترم شریف صاحب ۔
محترمہ شریفاں صاحبہ ذوجہ محترم سرجیت خاں صاحب
محترمہ شریفاں صاحبہ کی شادی محترم سرجیت خاں صاحب سے ہوئی، محترم سرجیت خاں صاحب ننکانہ میں رہتے ہیں، آپ بڑے ہی سوشل انسان تھے، ہمیشہ کونسلر منتخب ہوتے تھے، آپ کے چار بیٹے اور دو بیٹیاں پیدا ہوئی۔
حبیب ، طفیل ،اختر ،انور، جمیلہ اور جمشیداں
محترمہ شریفاں صاحبہ - محترم سرجیت خاں صاحب
جمشیداں جمیلہ انور اختر طفیل حبیب
محترم انور صاحب گورمنٹ سکو ل میں ہیڈ ماسٹر تھے۔
محترم اختر صاحب کی 21 جون 2024 کو فوت ہوئے
محترم محمد شریف صاحب
محترم محمد شریف صاحب کی شادی محترمہ جنت صاحبہ سے ہوئی۔ تین بیٹے اور دو بیٹیاں پیدا ہوئی۔ شبیر،جاوید ، سلطان،شبیراں اور نذیراں۔
محترم محمد شریف صاحب – محترمہ جنت صاحبہ
نذیراں شبیراں سلطان جاوید شبیر
محترم شبیر صاحب
شبیر – لطیفاً
ساجدہ ذاکریٰ ناصرہ حمزہ امان اللہ رضا الہی عمر فاروق
شبیر کے بیٹے عمر فاروق کی شادی جاوید کی بیٹی شبنم سے ہوئی ہے، اور شبیر فوت ہو چکا ہے۔
محترم جاوید صاحب
جاوید - بلقیس
مدیحہ صفیہ صبیحہ شبنم احسان انعام ندیم
محترم سلطان صاحب
محترم سلطان فوت ہو چکا ہے،اور اس کی شادی بھی نہیں ہوئی تھی۔
محترمہ شبیراں صاحبہ ذوجہ حبیب صاحب
شبیراں صاحبہ – حبیب صاحب
رخسانہ امجد یونس یوسف
محترمہ شبیراں صاحبہ اور اس کی بیٹی رخسانہ فوت ہوچکی ہیں ۔ رخسانہ کی ایک بیٹی کا نام طاہرہ تھا۔
محترمہ نذیراں صاحبہ ذوجہ ذوالفقار صاحب
محترمہ نذیراں صاحبہ –محترم ذوالفقارصاحب
آمنہ طاہرہ افضل شاہد امجد اکمل طاہر طارق
محترمہ نذیراں صاحبہ کی شادی اوکاڑہ کے قریب گوگیرا میںمحترم رمضان پٹواری صاحب کے بھتیجےمحترم ذالفقار صاحب سے ہوئی، محترم ذوالفقار صاحب کے والد صاحب اور محترم رمضان پٹواری صاحب کے بھائی کا نام محترم نذیر صاحب تھا۔
تور کوٹ گاوں
لدھیانہ ضلع
منج گوت
محترم عبدل حکیم صاحب
صدیقاً ہماء رفیقاں حمیداں مریم علی نور محمد سجاول
محترم محمد سجاول صاحب
محترم سجاول صاحب نابینا تھے۔
محترمہ اصغری صاحبہ زوجہ محترم محمد سجاول صاحب
محترم سجاول صاحب کی شادی جناب غلام رسول صاحب کی اکلوتی بیٹی محترمہ اصغری صاحبہ سے ہوئی۔ آپ کے ہاں دو بیٹے اور دو بیٹیاں ہوئیں۔ محترم اشرف صاحب ، محترم غلام چشتی صاحب، محترمہ شمیم صاحبہ عرف سیلاں اور محترمہ جمیلہ صاحبہ ۔
محترمہ اصغری صاحبہ کی ٹانگ میں کچھ مسلہ تھا جس کی وجہ سے لنگڑا کر چلتی تھیں۔
محترمہ اصغری صاحبہ – محترم محمدسجاول صاحب
محترمہ جمیلہ صاحبہ محترمہ شمیم صاحبہ عرف سیلاں محترم غلام چشتی صاحب محترم اشرف صاحب
محترم محمد اشرف صاحب
محترم اشرف صاحب نے دو شادیاں کیں، پہلی شادی محترمہ محمودہ صاحبہ سے ہوئی ، محترم اشرف صاحب اپنے نانا محترم غلام رسو ل صاحب کے ساتھ ہی رہتا تھا۔ محترم غلام رسو ل صاحب نے اپنی ساری جائیدا اپنی زندگی میں ہی اپنے نواسے محترم اشرف صاحب کے نام کر دی تھی۔ محترم اشرف صاحب بعد اذاں ساری زمین فروخت کر کے آٹاوہ شفٹ ہوگیا۔ اشرف واپڈا میں ملازم تھا۔
محترم اشرف صاحب- محترمہ محمودہ صاحبہ دُختر محترم رحمت اللہ صاحب
رُخسانہ کوثر عذرا
محترمہ محمودہ صاحبہ ذوجہ محمد اشرف صاحب
محترم رحمت اللہ صاحب
شکور حافظ محمود محمودہ
محمد اشرف صاحب کی بیوی محمودہ صاحبہ دختر رحمت اﷲ28 ستمبر1961 سترہ ربیع الثانی1381 بروز جمعرات24 سال کی عُمر میں فوت ہوئی اور مہسم باغ میں مدفون ہوئیں۔ محمودہ کے دو بھائی تھے، حافظ محمود اور شکور۔
محترمہ نصرت صاحبہ ذوجہ محمد اشرف صاحب
پہلی بیوی کے فوت ہونے کے بعد محترم محمد اشرف صاحب نے دوسری شادی محترم غلام حیدر صاحب کی بیٹی محترمہ نصرت صاحبہ سے کی۔
محترم محمد اشرف صاحب - محترمہ نصرت صاحبہ دُختر محترم غلام حیدر صاحب
بانو مسرت روبینہ محمد عمران
محمد عرفان محمد عارف محمد ارشد محمد اختر
محمد اختر
محترم رانا اختر صاحب 3 دسمبر کو پیدا ہوئے۔
محترم محمد اختر کی شادی رانا محمد وکیل خاں مرحوم اور شمیم اختر کی بیٹی زاہدہ خانم کے ساتھ ہوئی۔
محترم محمداختر اور محترم عارف صاحب پاکستان ائیر فورس میں ہیں۔
محمد عرفان
محترم محمد عرفان کی شادی رانا محمد وکیل خاں مرحوم اور شمیم اختر کی بیٹی راشدہ عقیل کے ساتھ ہوئی۔
محترم محمد عارف
محترم محمد عارف صاحب پاکستان ائیر فورس میں ہیں۔
محترم رانا عمران
محترم رانا عمران صاحب 9 مارچ 2021 کوقتل ہوئے اور 27 ستمبر 1991 کو پیدا ہوئےتھے۔
محترم محمد اشرف صاحب کی وفات 3 جنوری 2000 میں ہوئی۔
محترم غلام چشتی صاحب
محترم غلام چشتی صاحب – محترمہ جمیلہ صاحبہ
نازیہ سلطان شگفتہ فرزانہ اشفاق وارث شہزاد شہباز
محترم غلام چشتی واپڈا میں ملازم تھا۔
اشفاق فوت ہو چکا ہے۔
محترمہ شمیم صاحبہ عرف سیلاں ذوجہ محترم محمد وکیل صاحب
شمیم اختر زوجہ رانا محمد وکیل خاں مرحوم
عامر عقیل تجمل عقیل غزالہ راشدہ راشد عقیل طاہرہ نسیم محمد شاہد محمد خالد ریحانہ محمد فاروق زاہدہ خانم
محترمہ سیلاں صاحبہ اورمحترمہ جمیلہ صاحبہ دونوں بہنوں کی اکٹھی ہی شادیاں ہوئیں تھی۔
زاہدہ خانم
زاہدہ خانم کی شادی اپنے ماموں اشرف کے بیٹے محمداختر سے ہوئی۔
راشدہ عقیل
راشدہ عقیل کی شادی اشرف کے دوسرے بیٹے رانا عرفان کے ساتھ ہوئی۔
محمد خالد
محمد خالد کی شادی بھی اپنے ماموں اشرف کی بیٹی روبینہ سے ہوئی۔
محترمہ جمیلہ صاحبہ زوجہ محترم صوبیدار محمد رفیق صاحب
صوبیدارمحترم محمد رفیق صاحب –محترمہ جمیلہ صاحبہ
سعدیہ شاہدہ طاہر عمران فیصل طارق احسان شفیق زاہد ظفر
محترمہ جمیلہ صاحبہ کی شادی صوبیدارمحترم مُحمد رفیق صاحب سے ہوئی۔ مہسم میں بھی قیام کیا بعد میں کراچی شفٹ ہو گئی۔ محترمہ جمیلہ صاحبہ کی بیٹی سعدیہ کی شادی محترم عبدالمجید صاحب بہاول نگر کے چھوٹے بیٹے اظفرامین سے ہوئی۔
احسان کراچی سے مسلم لیگ نون کی طرف سے ایم-پی-اے کا لیکشن بھی لڑتے ہیں۔
زاہد اور شفیق فوت ہو چکے ہیں، شفیق کا قتل ہوا تھا۔
محترم محمد رفیق صاحب کی وفات کراچی میں 25 دسمبر 2016 کو ہوئی۔
محترم نورمحمد صاحب
محترم نور مُحمد صاحب سے جناب بھوٖپو خاں صاحب کی بڑی بیٹی محترمہ زُبیدہ صاحبہ کی شادی ہوئی۔
جناب عبدل حکیم صاحب کے بیٹے محترم نورمحمد صاحب برٹش آرمی میں تھے، دوسری جنگ عظیم کے بعد ڈاکخانہ میں جاب شروع کر دی تھی، پاکستان بننے سے پہلے ہی بہاول پور میں ڈیوٹی کر رہے تھے۔ مگر ان کا خاندان انڈیا میں تور کوٹ ضلع لدھیانہ میں ہی تھا۔ پارٹیشن کے وقت انڈیا بارڈر کے ساتھ ہی ایک مقام تھا رسول پور ، وہاں محترم نور محمد صاحب کی سب سے چھوٹی بہن محترمہ صدیقا ً صاحبہ رہتی تھیں۔ رسول پور میں ہی اکتوبر 1947 کو ان کا دوسرا بیٹا محترم غلام مصطفےٰ صاحب پیدا ہوا،ان کے ساتھ ہی محترمہ زبیدہ صاحبہ 1947 میں پاکستان میں آئیں، پہلے بہاول پور کیمپ قیام کیا پھر بہاول نگر شفٹ ہوگئیں۔
محترم نور محمد صاحب گیارہ ستمبر 1977 کو بہاول نگر میں فوت ہوئے اور وہی مد فون ہیں۔
محترمہ زُبیدہ صاحبہ – محترم نور محمد صاحب
خالد محمودعرف گوگی شہنازاخترعرف گڈو شاہدہ پروین شفیق احمد غلام مصطفٰے عبدالمجید نذیراں
محترمہ زُبیدہ صاحبہ زوجہ محترم نور محمد صاحب
محترمہ زُبیدہ صاحبہ کی شادی محترم نور محمد صاحب سے ہوئی۔محترم نور محمد صاحب جناب حاجی بھوپو خان صاحب کے بڑے بھائی جناب غلام رسول صاحب کی اکلوتی بیٹی محترمہ اصغری صاحبہ کے شوہرمحترم سجاول صاحب کا بھائی تھا۔انڈیا سے پاکستان ہجرت کے دوران محترم نور محمد صاحب کی والدہ صاحبہ اور بیٹی محترمہ نذیراں صاحبہ شہید ہو گئیں تھیں۔ ِان کے 4 بیٹے اور 3 بیٹیاں پیدا ہوئیں۔ نذیراں ، عبدالمجید ،غلام مصطفٰے، شفیق احمد،شاہدہ پروین ، شہنازاخترعرف گڈو، اور خالد محمودعرف گوگی۔زُبیدہ صاحبہ نے عُمرہ کی ادایئگی بھی اپنی بیٹی شاہدہ اور نواسے کامران کے ساتھ کی تھی۔ زُبیدہ صاحبہ 07 جون 2007 کو بہاول نگر میں فوت ہوئیں اور وہی مدفون ہیں۔
محترم عبدالمجید صاحب
محترم عبدالمجید صاحب- محترمہ زُہرہ صاحبہ
اظفر امین علی شمائلہ عرف شمو ڈاکٹر صدف
محترم عبدالمجید صاحب کی وفات 25 دسمبر 1976کو ایکسیڈینٹ سے ہوئی۔
ڈاکٹر صدف
ڈاکٹر صدف
عائشہ مدثر مُبشر
ڈاکٹر آپی صدف 23 جولائی 1972کو پیدا ہوئیں۔
شمائلہ عرف شمعو ذوجہ اوصاف مند
شمائلہ عرف شمعو – اوصاف مند
نعیم
شمائلہ یکم ستمبر 1973 کو پیدا ہوئی۔
شمائلہ عرف شمعو ذوجہ راؤ نعمان
شمائلہ عرف شمو – راؤ نعمان
احسن ہانیہ
علی
علی
نور العین عمران عُظمیٰ نعمان علی
علی 5 جنوری 1975کو پیدا ہوا۔
اظفر امین
اظفر امین - سعدیہ
مانیہ حسنین
محترم غلام مصطفےٰ صاحب
محترم غلام مصطفےٰ صاحب – محترمہ زاہدہ صاحبہ
عمر رانا میجر رضوان رانا عثمان رانا عائشہ رانا
محترم غلام مصطفٰے صاحب 10 اکتوبر 1947 کو پیدا ہوئے۔
محترمہ زاہدہ صاحبہ 16 جولائی 1957 کو پیدا ہوئیں۔
محترم غلام مصطفٰے صاحب اور محترمہ زاہدہ صاحبہ کی شادی 16 نومبر 1978 کو ہوئی۔
عائشہ ذوجہ محترم شہزاد صاحب
عائشہ – محترم شہزاد صاحب
احمد شہزاد
عائشہ رانا 18 جولائی 1981 کو پیدا ہوئی۔
عائشہ رانااور محترم شہزاد صاحب کی شادی 11 اپریل 2004 کو ہوئی۔
احمد شہزاد 21 جون 2005 کو پیدا ہوا۔
محترم شہزاد صاحب کی وفات 17 فروری 2006 کو ہوئی۔
عائشہ رانا ذوجہ محترم عمیر صاحب
عائشہ رانا - محترم عمیر صاحب
موحد عبدالرفع
محترم عمیر صاحب 21 جولائی 1982 کو پیدا ہوا-
محترم عمیر صاحب اور عائشہ رانا کی شادی 17 دسمبر 2011 کو ہوئی۔
عبدالرفع 21 اکتوبر 2012 کو پیدا ہوا-
موحد عمیر 31 اکتوبر 2016 کو پیدا ہوا۔
عثمان رانا
عثمان رانا - صوفیہ
حلیمہ ارفہ کاشان مصطفٰے
عثمان رانا 3 اکتوبر 1983 کو پیدا ہوا۔
صوفیہ 19 جون 1985 کو پیدا ہوئی۔
عثمان رانا اور صوفیہ کی شادی 25 دسمبر 2010 کو ہوئی۔
عثمان رانا کا بیٹا ،کاشان مصطفٰے 21 جون 2012 کو پیدا ہوا۔
عثمان رانا کی بیٹی ارفہ 7 دسمبر 2015 کو پیدا ہوئی۔
عثمان رانا کی بیٹی حلیمہ 29 جون 2018 کو پیدا ہوئی۔
میجر رضوان رانا
میجر رضوان رانا - رابعہ
ریان رائمہ رامین
میجر رضوان رانا 24 اکتوبر 1984 کو پیدا ہوا۔
رابعہ 16 جون 1986 کو پیدا ہوئی۔
میجر رضوان رانا کی رابعہ سے شادی 26 اکتوبر 2013 کو ہوئی۔
میجر رضوان رانا کی بیٹی رائمہ 22 ستمبر 2015 کو پیدا ہوئی۔
میجر رضوان رانا کی بیٹی رامین 4 نومبر 2016 کو پیدا ہوئی۔
میجر رضوان رانا کا بیٹا ریاں 2 جون 2021 کو پیدا ہوا۔
عمر رانا
عمر رانا – متنزہ
مرہا دانیال
عمر رانا 30 مئی 1986 کو پیدا ہوا۔
عمر رانا کی شادی 27 فروری 2016 کو ہوئی۔
عمر رانا کا بیٹا دانیال 16 جون 2017 کو پیدا ہوا۔
عمر رانا کی بیٹی مرہا 20، نومبر 2020 کو پیدا ہوئی۔
محترم شفیق احمد صاحب
محترم شفیق احمد صاحب –محترمہ مسرت صاحبہ
سائرہ عمیر عرف بلو زنیرا عرف زونی مدثر
محترم شفیق احمد صاحب اور محترمہ مسرت صاحبہ کی شادی 27 نومبر 1976 کو ہوئی۔
مدثر
مدثر - حنا
ذوہان فجر ایان
مدثر 18 دسمبر 1977 کو پیدا ہوا۔
مدثر کا بیٹا ذُوہان 9 مارچ 2021 کو پیدا ہوا۔
ذُنیرہ ذوجہ محترم ریاض صاحب
ذُنیرہ – محترم ریاض صاحب
شفا حبہ محمد سعد فاطمہ
ذُنیرہ 21 ستمبر 1980 کو پیدا ہوئی۔
حبہ ریاض 28 جنوری کو پیدا ہوئی۔
محترم عمیر صاحب
محترم عمیر صاحب – عائشہ رانا
موحد عبدالرفع
محترم عمیر صاحب 21 جولائی 1982 کو پیدا ہوا۔
عائشہ رانا 18 جولائی 1981 کو پیدا ہوئی۔
محترم عمیر صاحب اور عائشہ رانا کی شادی 17 دسمبر 2011 کو ہوئی۔
عبدالرفع 21 اکتوبر 2012 کو پیدا ہوا۔
موحد عمیر 31 اکتوبر 2016 کو پیدا ہوا۔
سائرہ ذوجہ محترم راشد صاحب
سائرہ 8 اگست 1984 کو پیدا ہوئی۔
سائرہ نے دو شادیاں کیں۔ پہلی شادی محترم راشد صاحب کے ساتھ ہوئی۔
سائرہ – محترم راشدصاحب
سائرہ عزمان ذوجہ محترم عُزمان صاحب
سائرہ کی دوسری شادی محترم عُزمان صاحب کے ساتھ 2 فروری 2020 کو ہوئی۔
سائرہ عزمان– محترم عُزمان صاحب
محترمہ شاہدہ پروین صاحبہ ذوجہ محترم رائے صادق صاحب ایڈووکیٹ
محترمہ شاہدہ پروین صاحبہ – محترم رائے صادق صاحب
میجر فیضان کامران سعدیہ عمران عرف منا
محترم رائے صادق صاحب 4 مارچ 1942 کو پیدا ہوئے۔
محترمہ شاہدہ پروین صاحبہ 8 مارچ 1954 کو پیدا ہوئیں۔
محترم رائے صادق صاحب 11 فروری 2015 کو فوت ہوئے۔
عمران (منا)
عمران (مُنا)
عمران (مُنا) 25 دسمبر 1974 کو پیدا ہوا۔
عمران (مُنا) 7 جنوری 2002 کو فوت ہوا۔
سعدیہ ذوجہ محترم شاہد صاحب
سعدیہ – محترم شاہد صاحب
ابیحہ شاہد ابراہیم شاہد موسیٰ شاہد
سعدیہ (ببی) 30 اکتوبر 1977 کو پیدا ہوئی۔
سعدیہ اور محترم شاہد صاحب کی شادی 11 دسمبر 2005 کو ہوئی۔
محترم شاہد صاحب 19 ستمبر 2013 کو فوت ہوئے۔
موسیٰ شاہد 2 اکتوبر 2006 کو پیدا ہوا۔
ابراہیم شاہد 26 جون 2008 کو پیدا ہوا۔
ابیحہ شاہد 07 جنوری 2011 کو پیدا ہوئی۔
کامران
کامران
حارث داود
کامران 28 دسمبر 1978 کو پیدا ہوا۔
کامران کا بیٹا داود 15 اکتوبر 2012 کو پیدا ہوا۔
کامران کا بیٹا حارث 8 جنوری 2016 کو پیدا ہوا۔
میجر فیضان
میجر فیضان – فا ئیقہ
خضر
میجر فیضان (فیضی 23) اگست 1985کو پیدا ہوئے۔
میجر فیضان کی شادی 6 جنوری 2017 کو ہوئی۔
میجر فیضان کا بیٹا خضر 8 دسمبر 2017 کو پیدا ہوا۔
محترمہ شہناز اختر صاحبہ عرف گڈو ذوجہ محترم راؤ یونس صاحب
محترم شہناز اختر صاحبہ – محترم راؤیونس صاحب
ولید یونس مریم ربعیہ عرف روبی بلال یونس
محترمہ شہناز اختر صاحبہ یکم اگست 1959 کو پیدا ہوئیں۔ یہ تاریخ پیدائش ڈاکومنٹس کے مطابق ہے
راؤیونس کی وفات 22 جولائی 2018کو ہوئی۔
بلال یونس
بلال یونس - زرتاش گل
ذلکفل بلال روہن بلال
بلال یونس 12 جون 1981 کو پیدا ہوا۔
بلال یونس اور زرتاش گل کی شادی 22 مارچ 2014 کو ہوئی۔
بلال کا بیٹا روہن 11 جون 2015 کو پیدا ہوا۔
بلال کا بیٹا ذلکفل 21 جولائی 2018 کو پیدا ہوا۔
ولید یونس
ولید یونس - تحریم اقبال
ارحم شاہزین
ولید یونس 5 اگست 1995 کو پیدا ہوئے۔
تحریم اقبال 9 جون 1991 کو پید ا ہوئی۔
ولید یونس اور تحریم اقبال کی شادی 23 دسمبر 2017کو ہوئی۔
ولید کا بیٹا شاہزین 13 اکتوبر 2018 کو پیدا ہوا۔
ولید کا بیٹا ارحم ولید 4 مئی 2022 کو پیدا ہوا۔
ربعیہ یونس ذوجہ محترم عدیل الرحمٰن صاحب
ربعیہ یونس – محترم عدیل الرحمٰن صاحب
ایمل عدیل ایمان عدیل ہانیہ عدیل
ربعیہ 23 ستمبر 1983کو پید ا ہوئی۔
ربعیہ اور محترم عدیل الرحمٰن صاحب کی شادی 8 ستمبر 2012کو ہوئی۔
ہانیہ عدیل 15 جون 2013 کو پید ا ہوئی۔
ایمان عدیل 23 ستمبر 2014 کو پید ا ہوئی۔
ایمل عدیل 15 دسمبر 2019 کو پید ا ہوئی۔
مریم یونس ذوجہ محترم شعیب شوکت صاحب
مریم یونس – محترم شعیب شوکت صاحب
فاطمہ شعیب داود شعیب خدیجہ شعیب زینب شعیب
مریم عرف مونا 28 نومبر 1984 کو پید ا ہوئی۔
مریم اور محترم شعیب شوکت صاحب کی شادی 12 فروری 2012کو ہوئی۔
زینب شعیب 30 اکتوبر 2012 کو پید ا ہوئی۔
خدیجہ شعیب 23 جنوری 2015 کو پید ا ہوئی۔
داود شعیب 16 مارچ 2018 کو پید ا ہوا۔
فاطمہ شعیب 26 ستمبر2022 کو پیدا ہوئی-
محترم خالد محمود صاحب عرف گوگی
محترم خالد محمود صاحب – محترمہ نرگس صاحبہ
طحٰہ فاران عرف بنٹی اویس عرف سنی
محترم خالد محمود صاحب عرف گوگی دسمبر 1960 کو پیدا ہوئے۔
محترم خالد محمود صاحب عرف گوگی کی محترمہ نرگس صاحبہ عرف نگہی سے شادی8 نومبر 1992 کو ہوئی۔
اویس - سنی
اویس (سنی)
شاہ میر
اویس –سنی 13 ستمبر 1993 کو پیدا ہوا-
اویس-سنی کی شادی27 دسمبر 2019 کو ہوئی۔
اویس-سنی کا بیٹا ، شاہ میر 3 دسمبر 2020 کو پیدا ہوا۔
فاران - بنٹی
فاران (بنٹی)
فاران - بنٹی 17 مئی 1995کو پیدا ہوا۔
فاران- بنٹی کی شادی27 دسمبر 2019 کو ہوئی۔
طحٰہ
طحٰہ
طحٰہ 8 اگست 2004 کو پیدا ہوئے۔
محترم علی صاحب
محترم علی صاحب کی شادی محترمہ شکوراں صاحبہ سے ہوئی، آپ فیصل آباد میں نتھو چک میں رہتے تھے۔ آپ کے تین بیٹے اور دو بیٹیاں تھیں۔
محترم علی صاحب - محترمہ شکوراں صاحبہ
ثریا دلبر الیاس جمیل
محترمہ مریم صاحبہ دُختر محترم عبدل حکیم صاحب
محترم امیر محمد خان صاحب
محترم امیر محمد خان صاحب کی دو شادیاں تھی ،آپ کی پہلی شادی سے ایک بیٹا پیدا ہوا ، جس کا نام محترم ستار صاحب تھا۔
محترم ستار صاحب، محترم حنیف صاحب اور محترم لطیف صاحب تینوں بھائی پوسٹ آفس میں تھے۔
محترم امیر محمد خان صاحب
محترم ستار صاحب
محترمہ جمیلہ صاحبہ محترم شفیق صاحب محترم جمیل صاحب
محترم ستار صاحب
محترم ستار صاحب اٹاوہ میں رہتے ہیں، محترم ستار صاحب کوٹھی والے کے نام سے جانے جاتے ہیں۔ آپ کے دو بیٹے محترم جمیل صاحب اور محترم شفیق صاحب اور ایک بیٹی محترمہ جمیلہ صاحبہ تھی، آپ کی والدہ محترمہ مریم صاحبہ محترم ستار صاحب کے ساتھ ہی رہتی تھیں۔
محترم جمیل صاحب کی وفات 22 مئی 2018 کو اٹاوہ میں ہوئی۔
محترمہ جمیلہ صاحبہ دُختر محترم ستار صاحب ، زوجہ محترم ارشد صاحب
محترمہ جمیلہ صاحبہ کی شادی محترم ارشد صاحب سے ہوئی، جو کہ مانگا منڈی کے قریب گاؤں قمیس کا رہنے والا تھا۔محترم ارشد صاحب شٹام فروش تھا اور جاب کے سلسلے میں آٹاوہ میں ہی رہایش پذیر تھا۔ محترمہ جمیلہ صاحبہ نے اپنا گھر اٹاوہ میں مسجد کی ایکسٹینشن کے لئے مسجد کو دے دیا تھا۔
محترمہ مریم صاحبہ دُختر محترم عبدل حکیم صاحب
امیر محمد خان کی دوسری شادی محترمہ مریم صاحبہ سے ہوئی جن سے تین بیٹے محترم محمد شریف صاحب ، محترم محمد حنیف صاحب اور محترم محمد لطیف صاحب اور دو بیٹیاں تھیں، محترمہ انوری صاحبہ اور محترمہ سروری صاحبہ ۔
محترم امیر محمد خان صاحب – محترمہ مریم صاحبہ
محترمہ سروری صاحبہ محترمہ انوری صاحبہ محترم محمد لطیف صاحب محترم محمد حنیف صاحب محترم محمد شریف صاحب
محترم محمد شریف صاحب
محترمہ خدیجہ صاحبہ –محترم محمد شریف صاحب
محترمہ خدیجہ صاحبہ کا نکاح محترم محمد شریف صاحب سے ہوا مگر رُخصتی ابھی نہیں ہوئی تھی۔ محترم محمد شریف صاحب نکاح کے چند مہنیوں بعد ہی فوت ہو گے تھے۔محترم محمد شریف صاحب محترم نور محمد صاحب کے بھانجے تھے۔
محترم حنیف صاحب
بعد اذاں محترم محمد شریف صاحب کے چھوٹے بھائی محترم محمد حنیف صاحب کے ساتھ محترمہ خدیجہ صاحبہ کی شادی ہوئی۔ محترم حنیف صاحب نے پوسٹ آفس میں سروس کی اور 60 سال کی عمر میں پہنچنے پر ریٹائیرمنٹ لی۔محترم حنیف صاحب یکم جنوری1993 کو فجر کی نماز ادا کرنے کے بعد اچانک اٹاوہ میں فوت ہوئے۔ آپ کے5 بیٹے پیدا ہوئے۔ محترم محمداکرم صاحب، محترم محمد اسلم صاحب، محترم محمدخالق صاحب، محترم محمداصغر صاحب اور محترم محمد منظور صاحب۔
محترم حنیف صاحب- محترمہ خدیجہ صاحبہ
محترم محمد منظور صاحب محترم محمداصغر صاحب محترم محمدخالق صاحب محترم محمد اسلم صاحب محترم محمداکرم صاحب
محترمہ خدیجہ صاحبہ کی دوبارہ شادی محترم شریف صاحب کےہی چھوٹے بھائی محترم حنیف صاحب سے ہوئی۔ محترمہ خدیجہ صاحبہ نہایت ہی نفاست پسند اور منکسر المزاج تھیں، کبھی آپ کی ذات سے کسی کو کوئی تکلیف نہیں ہوئی، آپ کافی عرصہ چیچہ وطنی رہتی تھیں، آپ کا قیام تو اپنی والدہ صاحبہ کے گھر ہی ہوتا تھا، مگر چیچہ وطنی میں باقی گھروں میں باقاعدگی سے جاتی تھیں۔
محترمہ خدیجہ صاحبہ کی وفات 11 دسمبر 2003 ، 16 شوال 1424 ہجری کو اچانک ہوئی۔ آپ اپنی وفات کے ایک ہفتہ پہلے چیچہ وطنی سے اٹاوہ آئیں تھی کیونکہ آپ کی ساس محترمہ مریم صاحبہ کو گھر میں گرنے سے چوٹ لگ گئی تھی ، آپ اپنے چھوٹے بیٹے محترم منظور صاحب کے ساتھ رہتی تھی، آپ کو محترم منظور صاحب نے سیب کھلایا اور آپ خود اپنے قدموں پر پیدل چل کر محترم منظور صاحب کے گھر سےمحترم خالق صاحب کے گھر گئیں۔وہاں جا کر اچانک طبیت خراب ہوگئی، مقامی ڈاکٹر کو گھر بلا کر چیک کروایا اور اٹاوہ ہی میں علامہ اقبال ہسپتال میں بھی لے گئے مگرآپ تھوڑی ہی دیر میں فوت ہو گئیں اور اٹاوہ میں ہی اپنے میاں محترم محمد حنیف صاحب کی قبر کے پاس مدفون ہیں۔
محترم محمد اکرم خاں صاحب
محترم محمد اکرم خاں صاحب - محترمہ شہناز صاحبہ
انعم عاصمہ عظمیٰ عمران عرف مُنا رضوان عرف راجہ
محترم محمد اکرم صاحب کی شادی 20 اکتوبر 1974 کو چیچہ وطنی بارہ چک میں محترمہ خاتمے صاحبہ کی بیٹی محترمہ شہناز صاحبہ سے ہوئی۔
محترم محمد اکرم خاں صاحب 13 جون 1946 کو پیدا ہوئے اور آپ 30 دسمبر 2023 کو فوت ہوئے
محترمہ شہناز صاحبہ یکم جنوری 1954 کو پیدا ہوئیں۔
عمران کاشف 19 جنوری 1978 کو پیدا ہوا-
رضوان کاشف یکم مارچ 1981 کو پیدا ہوا-
عظمیٰ 07 اگست 1983 کو پیدا ہوئی۔
اسماء 15 دسمبر 1986 کو پیدا ہوئی۔
انعم 9 دسمبر 1989 کو پیدا ہوئی اور اس کی شادی 5 فروری 2023 کو ہوئی۔
محترم محمد اسلم صاحب
محترم محمد اسلم صاحب –محترمہ بشیراں صاحبہ
فوزیہ تنزیلہ شبنم ناہید علی رضا احسان الحق جاوید انعام الحق
انعام الحق فوت ہو گیا ہے۔
محترم محمد اصغر صاحب
محترم محمد اصغر صاحب – محترمہ سبیلاں صاحبہ
عارفہ صائمہ مسرت آصف کلیم اللہ ندیم
محترمہ بشیراں صاحبہ اور محترمہ سبیلاں صاحبہ دونوں بہنیں ہیں۔
محترمہ سبیلاں صاحبہ کینسر کی وجہ سے 9 دسمبر 2022 کو فوت ہوئیں۔
محترم محمد عبدل خالق صاحب
محترم عبدل خالق صاحب - محترمہ خالدہ صاحبہ
عبدالرحمٰن ذیشان عرفان آصف طارق
محترمہ خالدہ صاحبہ محترمہ چچی منتظر صاحبہ کے ماموں کی بیٹی ہے۔
ذیشان کی شادی 25 مارچ 2018 کو ہوئی۔
محترم محمد منظور صاحب
محترم منظور صاحب –محترمہ نجمہ فردوس صاحبہ عرف ننھی
اقراء
محترم منظور صاحب کی شادی اپنی ماموںمحترم محمد حفیظ خاں صاحب کی بڑی بیٹی محترمہ نجمہ فردوس صاحبہ کے ساتھ ہوئی۔
محترم رانا راشد صاحب - اقراء
علیزے
محترم محمد لطیف صاحب
آپ نے پوسٹ آفس میں سروس کی۔
محترمہ انوری صاحبہ دختر امیر محمد خان
محترمہ انوری صاحبہ کی شادی محترم شمیم صاحب سے ناگرا میں ہوئی۔
محترمہ سروری صاحبہ دُختر محترم امیر محمد خان صاحب
محترمہ سروری صاحبہ خانیوال 12 چک میں رہتی ہیں۔
محترمہ حمیداں صاحبہ دُختر جناب عبدل حکیم صاحب
محترم راجہ صاحب
محترم راجہ صاحب نے دو شادیاں کیں، پہلی شادی جناب عبدل حکیم صاحب کی بیٹی اور محترم نور محمد صاحب کی بہن محترمہ حمیداں صاحبہ سے ہوئی جس سے ایک بیٹی محترمہ زُہرہ صاحبہ پیدا ہوئی، دوسری شادی لاہور میں کی۔
محترم راجہ صاحب – محترمہ حمیداں صاحبہ
محترمہ زُہرہ صاحبہ
محترمہ زُہرہ صاحبہ دُختر محترمہ حمیداں صاحبہ
محترمہ زُہرہ صاحبہ کی شادی اپنے ماموںمحترم نور محمد صاحب کے بڑے بیٹےمحترم عبدالمجید صاحب سے بہاول نگرمیں ہوئی۔ آپ کو اپنی خالہ محترمہ صدیقًا صاحبہ کی جائیداد بھی ملی کیونکہ خالہ کے کوئی اولاد نہیں تھی۔
محترم غلام چشتی صاحب محترم شادی خاں صاحب
جناب چھجو خان صاحب
محترمہ غفوراں صاحبہ محترمہ جان صاحبہ محترم عبدالستار صاحب
محترم شادی خاں صاحب
جناب چھجو خاں صاحب کے دو بیٹے محترم شادی خان صاحب اور محترم غلام چشتی صاحب تھے۔ محترمہ حُرمت صاحبہ کی شادی جناب ذیلدار چھجو خاں صاحب کے بڑے بیٹے محترم شادی خانںصاحب سے ہوئی۔محترم شادی خاں صاحب شادی سے 6 مہینے بعد فوت ہوگئے۔اُن کی کوئی اولاد نہ ہوئی۔ محترمہ حُرمت صاحبہ نے ساری زندگی دوبارہ شادی نہیں کی بلکہ اپنے سُسر جناب چھجو خاں صاحب کی دوسری شادی کروا دی۔ خود اپنے دیور محترم غلام چشتی صاحب کی بچوں کی طرح پرورش کر تیں رہیں۔ جو کہ بعد میں زیلدار بنا۔ محترم غلام چشتی صاحب نے بھی ساری زندگی محترمہ حُرمت صاحبہ کی بہت زیادہ عزت و تکریم کی۔ محترمہ حُرمت صاحبہ چیچہ وطنی 9 چک میں فوت ہوئیں۔محترمہ حُرمت صاحبہ کے حصے کی زمین چیچہ وطنی بائی پاس کے قریب تھی جو کہ 9 چک والوں نے فروخت کر دی۔ جناب چھجو خاں صاحب کی دوسری شادی سے ایک بیٹا محترم عبدالستار صاحب اور دو بیٹیاں محترمہ جان صاحبہ اورمحترمہ غفوراں صاحبہ پیدا ہوئیں۔
محترم غلام چشتی صاحب کا بیٹا محترم محمد سلیم صاحب چکنمبر ایک سو نو –بارا –ایل والا ہے۔
محترم شادی خاں صاحب – محترمہ حرمت صاحبہ
محترم غلام چشتی صاحب
محترم غلام چشتی صاحب –محترمہ ولائتہ صاحبہ
محترمہ افضل صاحبہ محترمہ رضیہ صاحبہ محترم سلیم صاحب محترمہ سیلاں صاحبہ
محترمہ سیلاں صاحبہ 24 مئی 2016 کو فوت ہوئیں۔
محترم عبدالستار صاحب
محترم عبدالستار صاحب - محترمہ سروری صاحبہ
محترم ناظم صاحب محترم اعظم صاحب محترمہ کوثر صاحبہ محترمہ انوری صاحبہ
محترم عبدالستار کی شادی محترم عبدالمجید کی بیٹی محترمہ سروری صاحبہ کے ساتھ ہوئی-
محترمہ جان صاحبہ ذوجہ محترم حبیب صاحب
محترمہ جان صاحبہ – محترم حبیب صاحب
محترم افتخار صاحب محترم حفیظ صاحب
محترمہ غفوراں صاحبہ ذوجہ محترم علی گوہر صاحب
محترمہ غفوراں صاحبہ –محترم علی گوہر صاحب
محترم شمشاد صاحب محترم توحید صاحب محترم سُبحان صاحب محترمہ عذرا صاحبہ محترمہ صائمہ صاحبہ محترمہ نجمہ صاحبہ محترمہ مقبول صاحبہ
محترمہ مجیدہ صاحبہ عُرف پولاں زوجہ محترم محمد رجب علی صاحب
چچا محترم محمد اقبال صاحب
پہلی شادی محترمہ خورشید صاحبہ سے ہوئی، جس سے ایک بیٹا محترم محمد جمیل صاحب اور بیٹی محترمہ منیراں صاحبہ پیدا ہوئی،
چچا محترم محمد اقبال صاحب کی دوسری شادی اوکاڑہ والی دادی اماں محترمہ صدیقاً صاحبہ کی بہن سے ہوئی۔
محترمہ اصغری صاحبہ زوجہ محترم محمد سجاول خاں صاحب
محترمہ اصغری صاحبہ - محترم محمد سجاول صاحب
دو بیٹاں:
محترمہ جمیلہ صاحبہ
محترمہ شمیم عرف سیلاں صاحبہ
دو بیٹے:
محترم محمد غلام چشتی صاحب
محترم محمد اشرف صاحب
جناب حاجی صوبیدار بھوپو خان صاحب
دو بیٹے:
محترم محمد یعقوب صاحب
محترم محمد بنیامین صاحب
پہلی بیوی کے انتقال کے بعد دوسری شادی مُحترمہ حاجن عزیزاں صاحبہ سے ہوئی۔ جس سے 9بیٹے اور 9 بیٹیاں پیدا ہوئی جِن میں سے 6 بیٹیاں بچپن میں ہی فوت ہو گئیں تھیں۔ دو بچے محترم محمد حفیظ خاں صاحب کے ساتھ ایک بیٹی جڑواں بھی تھی ۔
ایک بیٹی جس کا نام محترمہ مشرف صاحبہ تھا، 12 سال کی عمر میں مہسم آ کر فوت ہوئی، آپ کو چچک کا مرض لاحق ہو گیا تھا، پہلے ان کی نظر متاثر ہوئی پھر اسی مرض میں فوت ہو گئیں۔
جناب بھوپو خان صاحب – محترمہ عزیزاں صاحبہ
نو بیٹے:
محترم محمد شفیع خاں صاحب
محترم محمد لطیف خاں صاحب
محترم محمد سلیم خاں صاحب
محترم محمد حنیف خاں صاحب
محترم محمد حفیظ خاں صاحب
محترم محمد افضل خاں صاحب
محترم محمد صدیق خاں صاحب
محترم محمد مشتاق احمد خاں صاحب
نو بیٹیاں:
محترمہ زبیدہ صاحبہ
محترمہ خدیجہ صاحبہ
محترمہ ولائیتہ صاحبہ
محترمہ مشرف صاحبہ
آپ 1960 میں بی ڈی ممبر بنے بعدا ذاں چئیر مین بھی رہے ۔ کیونکہ پہلا چیر مین مالی بد عنونی کی وجہ مُعطل ہو گیا تھا۔ پانچ گاوں کا ایک چئیر مین ہوتا تھا۔
04 نومبر1966 کو مہسم سے ہجرت کرکے ایک سو بارہ – بارہ –ایل بہادر گڑھ چیچہ وطنی شفٹ ہو گئے ۔
چیچہ وطنی آ کر فلاحی و سماجی زندگی گزاری اور خصوصی طور پر مسجد کے کام میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔ مسجد میں اعلان کیا جو کوئی بھی مسجد میں مہمان آے اُسے کھانا میں کھلاوں گا اور مسجد میں مہمان کے لیئے ایک عدد بستر پیٹی میں رکھا۔ فجر کی نماز میں امام صاحب سے اکثر سورہ رحمٰن کی تلاوت کی فرمائش کرتے تھے۔
آپ اکثر مندرجہ ذیل اشعار پڑھا کرتے تھے۔
ہر مُشکل دی کُنجی یاروں ہتھ مرداں دے آئی
ہتھ اُٹھا منگ دُعا تے مُشکل رہے نہ کائی
اُٹھ مُسافرا سُتیا جھاڑوں دے مسیت
تو سُتا تے رب جاگ دا تیری ڈاڈھے نال پریت
14 نومبر 1972 کو جج کرنے کیلئے اپنی بیوی مُحترمہ حاجن عزیزاں صاحبہ اور بڑے بیٹے محترم حاجی مُحمد شفیع خاں صاحب کے ساتھ گئے۔ وہاں اچانک چکر آنے سے گِر پڑے اور ہنس کی ہڈی پر چوٹ آ گئی۔ کِسی طبیب کے پاس جانے سے صاف انکار کر دیا اور واضح کہا کہ جسکی مُبارک جگہ پر چوٹ آئی ہے وہ ہی اِنشااﷲ شفا بھی دے گا۔ اور واقعی اﷲ نے ویسے ہی شفا دے دی۔ جیسا آپ نے گمان کیا تھا۔ آپ اکثر فرمایا کرتے تھے کہ "اللہ سارا ہی میرا ہے"
خصوصی طور پر بادیہ وادی بھی گئے جہاں اُن کے والد جناب محمد قُطب دین صاحب کا1914 میں حج کی ادایئگی سے واپسی کے وقت اِنتقال ہو ا تھا۔ وہاں اُن کی یاد میں اَبدیدہ ہوئے ۔ اور حج سے واپسی 23 فروری 1973 کو ہوئی۔
14 مارچ1980 کی صبح بروز جمعہ کو اپنے خالقِ حقیقی سے جا ملے اور چیچہ وطنی چک نمبر ایک سو بارہ –بارہ –ایل میں مدفون ہیں۔
دادا حضور کے حج کے دوران اہم تاریخیں
چار نومبر 1972 کو چیچہ وطنی گھر سے روانگی
انتیس نومبر 1972 کو بحری جہاز صفینہ عرب پر کراچی سے روانگی
آٹھ دسمبر 1972 کو مکہ معظمہ پہنچے
دس دسمبر 1972 کو غار ثور گئے
چودہ یا پندرہ دسمبر کو مدینہ منورہ پہنچے
پچیس دسمبر 1972کو چھیالیس نمازیں ادا کرنے کے بعد واپس مکہ پہنچے
انیس جنوری 1972 کو مکہ سے جدہ پہنچے
گیارہ فروری 1973 کو کراچی پہنچے
اٹھارہ فروری 1973 کو کراچی پہنچے
تئیس فروری 1973 کو چھ دن کراچی قیام کے بعد عوامی ٹرین پر سوار ہوئے
چوبیس فروری 1973 کو خانیوال پہنچے
تیرہ مارچ 1980 کی شب ابو جی گوجرانوالہ میں طارق بھائی کے ماموں محترم خورشید عالم صاحب کے جنازہ اور تدفین کے بعد رات کو چیچہ وطنی پہنچے، انھوں نے ابو جی کو بہت روکا مگر ابو جی نے کہا کہ میرے والد صاحب کی طبعیت اجکل کچھ ناساز رہتی ہے اس لئے مجھے گھر پہنچنا ہے۔
دادا جان محترم کا رات کا قیام دو ماہ سے ابو جی کے پاس ہی تھا۔
چودہ مارچ 1980 کو دادا جان نے روزمرہ کی طرح تہجد اور پھر فجر کی نماز ادا کی اور پھر ابو جی کے پاس سے بیٹھک میں چلے گئے۔
صبح کو محترم چچا جان مشتاق صاحب جب مربعے جانے لگے اور دیکھا کہ ان کے والد صاحب کی طبعیت کچھ بہتر نہیں لگ رہی،
چچا جان نے ان کو دونوں ہاتھوں میں اٹھایا اور بیٹھک سے گھر لے آئے۔
جیسے ہی دادا جان کو چچا جان نے بستر پر لٹایا، فورا ہی محترم دادا جان کی روح پرواز کر گئی، آپ نے 82 سال عمر پائی۔
جاوید بھائی کو اسی وقت بہاول نگر روانہ کیا گیا تاکہ محترمہ پھوپھو زبیدہ صاحبہ کو بروقت اطلاع دی جائے اور مزارع کو فیصل آباد روانہ کیا گیا۔
محترم مُحمد یعقوب خاں صاحب
آپ بہادری اور جوانمردی میں بہت مشہور تھے۔محترم مُحمد یعقوب خاں صاحب اور اُنکے تایاجان محترم محمد جعفر خاں صاحب دونوں نے ایک مرتبہ سکھوں کو ایک معرکے میں پُچھاڑ دیا تھا۔ دونوں اُس وقت کی شادیوں کے رواج کے مطابق بہاری پتھر اور لکڑی کا شہتیر یا مُڈ با اَسانی اُٹھا لیا کرتے تھے
آپ کوانگریز فوج میں بہادری اور جوانمردی کی بناپر دورانِ سروس تین میڈل بھی ملے جن کی اہلیت مندرجہ ذیل تھی۔
1939 سے 1945 جنگِ عظیم دوم میں جس آرمی فوجی نے کم ازکم 28 دن جنگ میں شرکت کی ہو اور اُس دوران شہید،زخمی یا قید ہوا ہو۔ اُس کو میڈل کا حق دار سمجھا جاتا تھا۔
دوسرے میڈل کی اہلیت یہ تھی۔ جس کِسی فوجی نے 3 سال تک انڈیا کے بارڈر پر ڈیوٹی کی ہو۔
محترم صوبیدارحاجی مُحمد شفیع خاں صاحب
محترم میجر طارق محمود
طاہر فاروق صاحب
محترم اِفتخار احمد خاں صاحب
محترمہ شاہین پرور صاحبہ
محترمہ طاہرہ انجم صاحبہ عُرف گڈو
محترم بابر شیر صاحب
محترمہ فرحت صاحبہ
محترمہ نورین صاحبہ
جب محترم محمد شفیع صاحب 1929 میں ہوئے پیدا
والدین نے پہلی نرینہ اولاد پر خوشی منائی بہت زیادہ
آپ 1945 میں رائل برٹش آرمی میں ہوئے بھرتی
تب تک آزاد نہیں ہوئی تھی پاکستان کی دھرتی
آپ کی 1950 میں محترمہ ذُہرا بیگم سے ہوئی شادی
آپ کی اہلیہ صوفی محمد افضل کی تھی شہزادی
جب 1965 میں ہوئی پاک بھارت جنگ
آپ شہیدوں اور غازیوں کے رہے سنگ
جب ہو رہی تھی مشہور شاہراہِ ریشم کی کنسٹرکشن
آپ بطور روڈ سُپروائزر دیتے رہے ہیں انسٹرکشن
آپ 1971 میں اَرمی سے ریٹائر ہوئے بطور صوبیدار
آپ کی اواز رُعب دار اورشخصیت تھی بڑی وضع دار
والدین کے ہمراہ 1972 میں حج کی حاصل کی سعادت
دوران حج عبادت الٰہی اور والدین کی خوب کی خدمت
جب آپ کا 89 سالہ زندگی کا 2018 میں وقتِ رُخصت آیا
اِہل وعیال اور اِہل محلہ سب کو اُداس پایا
محترمہ زہرہ بیگم صاحبہ
آپ کے والد صاحب کا نام صوفی محمد افضل خاں تھا
صوفی محمد افضل صاحب نے دو شادیاں کیں، پہلی بیوی کا نام لطیفاں بی بی جو کہ لدھے وال وڑائچ پنڈ گوجرنوالہ کی تھیں۔ دوسری بیوی کا نام منظوراں بی بی جو کہ ملتان کی رہنے والی تھیں ۔
آپ کی گوت منج تھی آپ انڈیا میں گاؤں بتھا توا، تحصیل جگرانواں ضلع لدھیانہ کی رہنے والی تھیں۔
آپ کی شادی چچا جان حاجی محمد شفیع خاں صاحب کے ساتھ 1950 کو مہسم گجرات میں ہوئی۔
آپ کے ہاں چار بیٹے اور چابیٹاں پیدا ہوئیں۔
آپ نے 1992 کو حج کی سعادت حاصل کی، طاہر بھائی اور افتخار بھائی نے سعودی عرب سے ہی ساتھ حج کیا۔
آپ اپنے آخری ایام میں علاج معالجہ کی غرض سے طارق بھائی اور افتخار بھائی کے پاس اسلام آباد میں رہیں۔
آپ نے ستائیسویں روزے کی رات کو اسلام آباد سے فیصل آباد چچا جان اور دیگر اہل خانہ سے ٹیلی فون پر بات کی۔
اٹھائیسویں روزے کی صبح (24 نومبر 2003) کو تین بجے افتخار بھائی کو آواز دی اور تین باتیں فرمائی۔
مجھے ہسپتال نہیں لے کر جانا
مجھے چھونا نہیں
اور باجی شاہین سے کہا اٹھیں، وضو کریں اور بلند آواز میں سورہ یٰسین کی تلاوت کریں۔
تقریبا صبح چار بجے اسی اثناء میں ان کی روح پرواز کر گئیں۔
اسلام اباد میں آپ کو غسل دیا گیا اور ایمبولینس کے ذریعے جسد خاکی کو فیصل آباد لایا گیا۔
عشاء کی نماز کے بعد آپ کی نمازِ جنازہ ادا کی گئی۔
-----------
صوبیدار میجرمحترم مُحمد لطیف خاں صاحب
ایک بیٹی:
محترمہ زاہدہ صاحبہ
چار بیٹے:
مرحؤم محترم محمد جاوید خاں صاحب
محترم محمد ارشد خاں صاحب
مرحوم محترم محمد امجد خاں صاحب
محترم محمد یوسف خاں صاحب
دادا جان کے طویل قامت فرزند محمد لطیف
طبیعت میں نفیس، دل میں محبت کی لطیف
قد میں ہی نہیں، ظرف میں بھی تھے عظیم
پینسٹھ کی جنگ میں دکھایا جواں حوصلۂ تمیم
بےخوف ہوکر لڑے، خاندان کا مان بنے
شجاعت میں یکتا، ایک داستان بنے
دانش میں یگانہ، عقل میں بے مثال
ہر محفل میں کرتے تھے سب کو نہال
ماں جی کے ہمراہ کھانے میں سادگی تھی
محبت بھری اس رفاقت میں شادابی تھی
ستتر میں ریٹائر اور اٹھہتر میں ہوا انتقال
آج ہم سے بچھڑے گزر گیا مزید ایک سال
یادوں کے چراغ اب بھی روشن ہیں یہاں
دعاگو ہیں سب، رب کرے ان پر رحمت وہاں
محترم محمد سلیم خاں صاحب
زیر کفالت بچے:
گلشن
گلناز
آفیہ
صوفیہ
محترم مُحمد حنیف خاں صاحب
محترم مُحمد حنیف خاںصاحب کی شادی محترم خوشی محمد صاحب کی بیٹی محترمہ مُنتظر صاحبہ کے ساتھ 4 جنوری1968 کو چیچہ وطنی میں ہوئی، محترمہ منتظرصاحبہ کے والدین ا نڈیا میں تحصیل گڑھ شنکر، ضلع ہوشیار پورکے تھے اور آپ کی گوت گھوڑے وا تھی۔
محترم محمد حنیف خاں صاحب آئل اینڈ گیس کے محکمے سے چیف کے عہدے سے ریٹائر ہوئے۔ ِان کے ہاں تین بیٹیاں اور ایک بیٹا پیدا ہوا۔ محترمہ شازیہ صاحبہ ، محترمہ فوزیہ صاحبہ ، محترمہ صائمہ صاحبہ اورمحترم فیصل حنیف صاحب۔
محترم مُحمد حنیف خاں صاحب نے پرائمری اور میڈل تک تعلیم گجرات پکھڑے والی سے حاصل کی۔اور میٹرک دولت نگر سکول سے پاس کیا، آپ کو گھر سے سکول تک پہنچنے کے لئے روزانہ ڈیڑھ گھنٹہ پیدل چلنا پڑتا تھا ۔
محترم مُحمد حنیف خاں صاحب پڑھائی میں اپنی مثال آپ تھے۔ اُس وقت کے محدود وسائل کے باواجود مڈل سے بی ایس سی تک وظیفہ حاصل کیا۔ میٹرک میں ریکارڈ 696 نمبر حاصل کیے۔
آپ 1961 میں زمیندار کالج میں بی ،ایس ،سی تھرڈ ائیر میں پڑھتے تھے جب آپ کی کراچی میں سول ایوی ایشن میں جاب ہو گئی۔
آپ نے ایک سال بعد 1962 میں او ،جی ،ڈی، سی میں جاب شروع کی۔
آپ 1961 سے 1977 تک جاب کے سلسلے میں کراچی میں مقیم رہے۔
1977 میں اسلام آباد شفٹ ہو گئے۔
آپ 1998 کو ریٹائر ہوئے، اور ریٹائرمنٹ کے بعد اپنے بیٹےمحترم فیصل حنیف صاحب کے پاس امریکہ میں رہتے ہیں۔ آپ نے امریکہ میں ہندی زبان بھی سیکھی۔
پاکستان میں خاندان پر بھی شفقت کا ہاتھ رکھتے ہیں۔
محترم فیصل حنیف صاحب نے بی ایس انجینئرنگ (4 سال کی ڈگری) کانڈا واٹرلو یونیورسٹی سے حاصل کی۔
محترمہ شازیہ صاحبہ کے بیٹے معظم نے بھی اسی یونیورسٹی سے ایم بی اے بھی کیا ہے۔
محترمہ شازیہ صاحبہ کی بیٹیاں ندا اور حرا نے بھی بی ایس کیا ہوا ہے۔
حرا کی کینڈا میں جس فیملی میں شادی ہوئی ہے وہ بنیادی طور پر خانیوال کے رہا ئشی ہیں مگر اب کینڈا میں رہتے ہیں۔
تین بیٹیاں:
محترمہ شازیہ صاحبہ
محترمہ فوزیہ صاحبہ
محترمہ صائمہ صاحبہ
ایک بیٹا:
محترم فیصل حنیف صاحب
محترم مُحمد حفیظ خاں صاحب
پانچ بیٹیاں:
محترمہ نجمہ فردوس صاحبہ
محترمہ رخسانہ صاحبہ
محترمہ ریحانہ کوثر صاحبہ
محترمہ شبانہ صاحبہ
محترمہ سونیا صاحبہ
تین بیٹے:
محترم آصف نوید صاحب
محترم عدیل کاشف صاحب
محترم عامر نوید صاحب
آنریری کیپٹن محترم مُحمد افضل خاں صاحب
تین بیٹے:
محترم اصغر علی کنور صاحب
محترم محمد علی نعمان صاحب
محترم ذیشان صاحب
تین بیٹیاں:
محترمہ گلناز صاحبہ
محترمہ افشاں صاحبہ
محترمہ سمیرا انجم صاحبہ
محترمہ نائلہ صاحبہ
ہیڈ پوسٹ ماسٹر محترم مُحمد صدیق خاں صاحب
پانچ بیٹے:
محترم اعجاز صدیق صاحب
محترم شہزاد صدیق صاحب
محترم سرفراز صدیق صاحب
محترم عمران صدیق صاحب
محترم عدنان صدیق صاحب
ایک بیٹی:
محترمہ ارسلہ جاوید صاحبہ
آپ نے چھٹی جماعت میں فرسٹ پوزیشن حاصل کی جس پر بڑے بھائی محترم مُحمد حنیف خاں صاحب نے انعام کے طور پر سائیکل لے کر دی۔
آپ نے 1991 میں پوسٹ ماسٹر کورس میں پنجاب سرکل میں اول پوزیشن حاصل کی۔
آپ عُمرہ ادا کرنے کے لیئے 23 اپریل2007 کو گئے اور واپسی 07 مئی 2007 کو ہوئی۔
دوران سروس مندرجہ ذیل شہروں میں پوسٹنگ ہوتی رہی۔
سروس کا اغاز گجرات یکم مارچ1965
اوکاڑہ دسمبر 1969
چار ماہ عارف والا 1970
اوکاڑہ 1970
کسووال 1971
چیچہ وطنی 1972
کسووال 1975
چیچہ وطنی 1976
اقبال نگر 1979
چیچہ وطنی 1982
اقبال نگر 1985
چیچہ وطنی 1986
پروموشن پوسٹ ماسٹر
Lower Selection Grade کسووال 1988
اقبال نگر 1992
پروموشن ہیڈ پوسٹ ماسٹر
Higher Selection Grade ٹاون انسپکٹر ماڈل ٹاون لاہور پوسٹنگ ہوئی مگر، جوائینگ نہیں کی 1995
چیچہ وطنی یکم جنوری 1996
ساڑھے نو ماہ بہاول نگر 1999
ساڑھے نو ماہ چیچہ وطنی 2000
ساڑے سولہ ماہ عارف والا دسمبر
2003
چیچہ وطنی 2005
42 سال سروس ریٹائر منٹ 28 فروری 2007
ریٹائرمنٹ کے بعد بڑے فعال ہیں اور فلاحی کاموں کیلئے اپنی زندگی وقف کر دی۔ کِسی کی غمی خوشی خواہ رشتہ داروں میں ہو یا غیروں میں ثواب کی نیت سے بھرپور شرکت کرتے ہیں۔
گاؤں کے چند مخیر حضرات کے ہمراہ اسرا ویلفیر سوسائٹی کو بنا کر اس کے تحت مندرجہ ذیل فلاحی کام ہو رہے ہیں۔
فری ڈسپنسری
دستکاری سکول
قرضِ حسنہ
مسجد صدیقیہ کی تعمیر
لائبریری اور خدمت مرکز
اپنی ذاتی حیثیت سے بھی متعدد کام کر رہے ہیں، ابھی 90% فلاحی کام ایسے ہیں جن کا علم اﷲ کے عُلاوہ کسی کو بھی نہیں ہے۔۔ ہرکسی کی مدد کیلیئے ہمہ وقت تیار ۔ خواہ کسی بھی وقت کہیں بھی جانا پڑے۔
اِن میں صلہ رحمی کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی ہے۔
30سے قریب ملٹری پنشنرز کی ماہانہ پنشن کے فارموں کوذُمداری کے ساتھ نہ صرف بھرنا بلکہ شہر چیچہ وطنی سے خودسب کی پنشن لے کر آنا، پھر سب کو اپنے ڈرائنگ روم میں بلا کر تقسیم کرنا۔
گرمی۔سردی۔ جاڑے یا کِسی قسم کے بھی موسم میں صُبح فجر کے بعد قبرستان کی صفائی ستھرائی
گورنمنٹ بوائز سکول کی صفائی ستھرائی
اپنے باغ کی صفائی ستھرائی
محترم محمد مشتاق احمد خاں صاحب
پانچ بیٹے:
محترم تنویر صاحب
محترم قیصر مشتاق صاحب
محترم علی حسن صاحب
محترم علی مشتاق صاحب
آخری بیٹے کا نام نہیں رکھا
پانچ بیٹاں:
محترمہ قمر جہاں صاحبہ
محترمہ نازیہ صاحبہ
محترمہ آفیہ صاحبہ
محترمہ آصفہ عمران صاحبہ
محترمہ صوفیہ عثمان صاحبہ
آپ صرف 43 سال کی عمر میں 03 نومبر 1990 کو تین ماہ شدید بیمار رہنے کے بعد فوت ہو ئے اور چیچہ وطنی میں مدفون ہیں۔
حاجی بھوپو خاں صاحب کے بیٹوں کی بیویاں کہاں سے تھیں
نام
گاؤں / قصبہ
تحصیل
ضلع
گوت
محترمہ زُہرہ بیگم صاحبہ
پٹھا توا
جگرانواں
لدھیانہ
منج
محترمہ وکیلاں صاحبہ
پُمسی
-
-
وریاہ
محترمہ ثریا خانم صاحبہ
کاکرا
دُھوری
بسی
وریاہ
محترمہ منتظر صاحبہ
-
گڑھ شنکر
ہوشیار پور
گھوڑےوا
محترمہ شمیم اختر صاحبہ
چونتا
-
لدھیانہ
-
محترمہ سعیدہ صاحبہ
سوتا-عثمان پور
راہو
جالندھر
گھوڑےوا
محترمہ شہناز بیگم صاحبہ
مہندی پور
گڑھ شنکر
ہوشیار پور
گھوڑےوا
محترمہ منیراں صاحبہ
کاؤلی
راجپورہ
پٹیالہ
اطلس
حاجی بھوپو خاں صاحب کی بیٹیوں کے شوہر کہاں سے تھے
نام
گاؤں / قصبہ
تحصیل
ضلع
گوت
محترم نور محمد صاحب
تور کوٹ
-
لدھیانہ
منج
محترم محمد حنیف صاحب
تور کوٹ
-
لدھیانہ
منج
محترم محمد ارشاد صاحب
اکہنور
-
ہوشیار پور
نارو
محترمہ زُبیدہ صاحبہ زوجہ محترم نور محمد صاحب
محترمہ خدیجہ صاحبہ ذوجہ محترم محمد شریف صاحب
محترمہ ولائیتہ صاحبہ ذوجہ محترم ولائیت صاحب
محترم ولائیت صاحب
محترم جعفر صاحب
حجرت اول - انڈیاسے پاکستان
گجرات سے چیچہ وطنی
انڈیا میں جناب بھوپو خاں صاحب کے گھر کا مکمل محل وقوع محترم محمد سلیم خاں صاحب کی زبانی
صوبیدار محترم حاجی مُحمد شفیع خاں صاحب
محترم میجر طارق محمود صاحب
محترم طاہر فاروق صاحب
محترم اِفتخار احمد خاں صاحب
محترمہ شاہین پرور صاحبہ ذوجہ محترم اعظم خان صاحب
طاہرہ انجم ذوجہ محترم ڈاکٹر عاقل صاحب
محترم بابر شیر صاحب
محترمہ فرحت دیبا صاحبہ ذوجہ محترم بریگیڈئر طارق جاوید صاحب
محترمہ نورین کوثر صاحبہ ذوجہ محترم کرنل خالد صاحب
صوبیدار میجر محترم مُحمد لطیف خاں صاحب
محترم محمد ارشد خاں صاحب
محمد یوسف خان صاحب
محترم مُحمد سلیم خاں صاحب
محترم مُحمد حنیف خاں صاحب
محترم مُحمد حفیظ خاں صاحب
آنریری کیپٹن محترم مُحمد افضل خاں صاحب
ہیڈ پوسٹ ماسٹر محترم مُحمد صدیق خاں صاحب
پانچ بیٹے:
اعجاز صدیق
شہزاد صدیق
سرفراز صدیق
عمران صدیق
عدنان صدیق
ایک بیٹی:
ارسلہ جاوید
محترم محمد صدیق خاں صاحب یکم مارچ 1947 کو پیدا ہوئے۔
محترمہ شہناز بیگم صاحبہ 25 جولائی 1951 کو پیدا ہوئیں۔
محترم محمد صدیق خاں صاحب اور محترمہ شہناز بیگم صاحبہ کی شادی 14 جنوری 1968 کو ہوئی۔
گوت ضلع تحصیل گاؤں / قصبہ نام
سنگھ حصار سرسہ روڑی محترمہ ذکریٰ اعجاز
وریاہ ہوشیار پور دسوالا مہیتی والا محترمہ آسیہ شہزاد
گھوڑےوا جالندھر جالندھر گُنا چور محترمہ راحت افضل
تاؤنی بسی دُھوری شیرپور محترمہ آصفہ عمران
وریاہ ہوشیار پور دسوالا مہیتی والا محترمہ فرخندہ عبدالمجید
محترم اعجاز صدیق صاحب
اعجاز صدیق 25 جولائی 1971 کو پیدا ہوئے اور ان کی شادی 04 نومبر 2000 کو ذکریٰ اعجاز کے ساتھ ہوئی۔
ذکریٰ اعجاز 4 مئی 1975 کو پیدا ہوئیں۔
ذکریٰ اعجاز کے والدین انڈیا میں قصبہ روڑی، تحصیل سرسہ اور مشری پنجاب کے ضلع حصار کے رہنے والے تھے۔
اعجاز صدیق - ذکریٰ اعجاز
طیب صدیق حلیمہ سعدیہ حفصہ فاطمہ زینب فاطمہ مناہل فاطمہ خرم صدیق
خرم صدیق 29 نومبر 2001 کو پیدا ہوئے۔
مناہل فاطمہ 17 جنوری 2003 کو پیدا ہوئیں۔
زینب فاطمہ 28 جولائی 2005 کوپیدا ہوئیں۔
حفصہ فاطمہ 15 نومبر 2007 کو پیدا ہوئیں۔
حلیمہ سعدیہ 16 جنوری 2009 کو پیدا ہوئیں۔
طیب صدیق 28 مئی 2012 کو پیدا ہوئے۔
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــمحترم شہزاد صدیق خاں
شہزاد صدیق خاں 02 ستمبر 1972 کو پیدا ہوئے اور ان کی شادی 22 مارچ 2000 کو آسیہ کے ساتھ ہوئی۔
آسیہ شہزاد 15 اپریل 1977 کو پیدا ہوئیں۔
شہزاد صدیق – آسیہ شہزاد
وردا فاطمہ
وردا فاطمہ 14 اکتوبر 2009 کو پیدا ہوئیں۔
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
محترم سرفراز صدیق
سرفراز صدیق 23 جولائی 1974 کو پیدا ہوئے اور ان کی شادی 30 جنوری 2005 کو راحت افضل کے ساتھ ہوئی۔
راحت افضل کے والدین انڈیا میں گاؤں گُنا چور، ضلع جالندھرکے تھے اور ان کی گوت گھوڑےوا تھی۔
راحت افضل 11 جنوری 1975 کو پیدا ہوئیں-
سرفراز صدیق - راحت افضل
محمد بن سرفراز اریبہ فاطمہ
اریبہ فاطمہ 22 دسمبر 2006 کو پیدا ہوئیں۔
محمد بن سرفراز 25 دسمبر 2017 کو پیدا ہوئے۔
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــمحترم عمران صدیق
عمران صدیق 04 ستمبر 1976 کو پیدا ہوئے اور ان کی شادی 29 جنوری 2005 کو اپنے چچا رانا محمد مشتاق کی بیٹی آصفہ عمران کے ساتھ ہوئی۔
آصفہ عمران 9 جولائی 1981 کو پیدا ہوئی۔
عمران صدیق - آصفہ عمران
عبداللہ صدیق ماہم فاطمہ
ابوبکر صدیق
آمنہ فاطمہ
آمنہ فاطمہ 01 جنوری 2006 کو پیدا ہوئیں۔
ابوبکر صدیق 28 دسمبر 2006 کو پیدا ہوئے۔
ماہم فاطمہ 05 دسمبر 2008 کو پیدا ہوئیں۔
عبداللہ صدیق 07 نومبر 2013 کو پیدا ہوئے۔
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــمحترمہ ارسلہ جاوید ذوجہ محترم محمد جاوید خان صاحب
ارسلہ جاوید 23 اکتوبر 1979 کو پیدا ہوئیں اور ان کی شادی اپنے تایا ریٹائرڈ صوبیدار میجر محمد لطیف خاں کے بڑے بیٹے محمد جاوید خان کے ساتھ 16 فروری 2003 کو ہوئی۔
محمد جاید خان – ارسلہ جاوید
ماہم فاطمہ
محمد جاوید 10 مارچ 1960 کو پیدا ہوئے۔
ارسلہ جاوید 23 اکتوبر 1979 کو پیدا ہوئی
ماہم فاطمہ 5 دسمبر 2008 کو پیدا ہوئی۔
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــمحترم عدنان صدیق
عدنان صدیق 07 ستمبر 1983 کو پیدا ہوئے اور ان کی شادی 15 فروری 2008 کو فرخندہ عبدالمجید کے ساتھ ہوئی۔
فرخندہ 20 جنوری 1985 کو پیدا ہوئی۔
عدنان اور شہزاد کی بیویاں بہنیں ہیں۔
عدنان صدیق - فرخندہ
مہوش رانا گلفام صدیق دانش صدیق وردا فاطمہ
وردا فاطمہ 14 اکتوبر 2009 کو پیدا ہوئیں۔
دانش صدیق 26 اکتوبر 2010 کو پیدا ہوئے۔
گلفام صدیق 17 جولائی 2013 کو پیدا ہوئے۔
مہوش رانا 18 جولائی 2016 کو پیدا ہوئیں۔
محترم محمد صدیق خاں صاحب اور محترمہ شہناز بیگم صاحبہ گولڈن جوبلی شادی کی سالگرہ کا لنک
پوسٹ آفس سے ریٹائرمنٹ الوداعی پارٹی لنک نمبر ایک
پوسٹ آفس سے ریٹائرمنٹ الوداعی پارٹی لنک نمبر دو
قبرستان کی صفائی ستھرائی
صدیقیہ مسجد افتتاح لنک
ریٹائرمنٹ کے وقت احکام کو کھلا خط لکھا
ویلفئیرکے کاموں کی آڈٹ رپورٹ
28 فروری 2007 کو پوسٹ آفس سے ریٹائرمنٹ والے دن کی تصاویر
عُمرہ کی ادایئگی کی مُکمل کہانی محترم محمد صدیق خاں صاحب کی زبانی
محترم محمد مشتاق احمدخاں صاحب
پانچ بیٹے:
تنویر
قیصر مشتاق
حسن مشتاق
علی اکبر
کاکا
چاربیٹیاں:
قمر جہاں
نازیہ عبدالرحمان
آفیہ عمر دراز
آصفہ عمران
صوفیہ عثمان
محترم محمد مشتاق احمد خاں صاحب 3 نوبر 1990 کو فوت ہوئے۔
محترم محمد مشتاق احمد خاں صاحب اور محترمہ منیراں صاحبہ کی شادی دسمبر 1971 میں ہوئی۔
محترمہ نازیہ ذوجہ محترم عبدالرحمٰن صاحب
رانا عبدالرحمٰن – نازیہ کا میاں 13 جولائی 1968 کو پیدا ہوئے۔
نازیہ عبدالرحمٰن 29 جنوری 1975 کو پیدا ہوئی۔
نازیہ کی عبدالرحمٰن کے ساتھ شادی 25 دسمبر 1995 کو ہوئی۔
نازیہ -عبدالرحمٰن
حماد عشاء سعد وجہیہ
وجہیہ عرف جیہ 9 اگست 1997 کو پیدا ہوئی اور 24 دسمبر 2022 کو راؤ عبدالحسیب کے ساتھ شادی ہوئی۔
نازیہ کی بیٹی عشاء 8 نومبر 2002 کو پیدا ہوئی-
نازیہ کا بیٹا سعد 4 ستمبر 1999 کو پیدا ہوا-
نازیہ کا بیٹا حماد 27 دسمبر 2007 کو پیدا ہوا-
محترمہ آفیہ ذوجہ محترم راؤ عمر دراز صاحب
راؤعمر دراز 9 اپریل 1966 کو پیدا ہوئے۔
آفیہ 15 اپریل 1978 کو پیدا ہوئی۔
آفیہ کی شادی راؤ عمر دراز کے ساتھ 4 اپریل 2004 کو ہوئی۔
آفیہ – راؤ عمر دراز
ابیرا میرب عائزہ ربیط
آفیہ کا بیٹا ربیط 27 ستمبر 2005 کو پیدا ہوا-
آفیہ کی بیٹی عائزہ 14 مئی 2007 کو پیدا ہوئی۔
میرب 10 فروری 2011 کو پیدا ہوئی۔
آفیہ کی بیٹی ابیرا 10 اگست 2015 کو پیدا ہوئی۔
محترم قیصر مشتاق صاحب
قیصر مشتاق 30 مارچ 1980 کو پیدا ہوا-
صائمہ –قیصر کی بیوی 9 ستمبر کو پید اہوئی۔
قیصر مشتاق کی شادی 2 مئی 2015 کو ہوئی۔
قیصر مشتاق - صائمہ
محمد یعقوب
قیصر کا بیٹا محمد یعقوب یکم دسمبر 2017 (بارہ ربیع الاول والے دن) پیدا ہوا-
محترمہ آصفہ عمران ذوجہ محترم عمران صدیق صاحب
عمران صدیق 04 ستمبر 1976 کو پیدا ہوئے اور ان کی شادی 29 جنوری 2005 کو اپنے چچا رانا محمد مشتاق کی بیٹی آصفہ عمران کے ساتھ ہوئی۔
آصفہ عمران 9 جولائی 1981 کو پیدا ہوئی۔
عمران صدیق - آصفہ عمران
عبداللہ صدیق ماہم فاطمہ
ابوبکر صدیق
آمنہ فاطمہ
آمنہ فاطمہ 01 جنوری 2006 کو پیدا ہوئیں۔
ابوبکر صدیق 28 دسمبر 2006 کو پیدا ہوئے۔
ماہم فاطمہ 05 دسمبر 2008 کو پیدا ہوئیں۔
عبداللہ صدیق 07 نومبر 2013 کو پیدا ہوئے۔
محترم حسن مشتاق
حسن مشتاق یکم ستمبر 1983 کو پیدا ہوا-
گلزیب عرف چندہ یکم جولائی 1985 کو پیدا ہوئی۔
حسن مشتاق کا نکاح 2 مئی 2008 کو ہوا۔
حسن مشتاق کی شادی 25 اپریل 2009 کو ہوئی۔
حسن مشتاق - گلزیب
عبدالہادی نہال ایشال
حسن کی بیٹی ایشال 3 اگست 2011 کو پیدا ہوئی۔
نہال فاطمہ 25 جولائی 2013 کو پیدا ہوئی۔
حسن کا بیٹا عبدالہادی 4 ستمبر 2014 کو پیدا ہوا-
محترمہ صوفیہ ذوجہ محترم عثمان رانا صاحب
عثمان رانا - صوفیہ
حلیمہ ارفہ کاشان مصطفٰے
عثمان رانا 3 اکتوبر 1983 کو پیدا ہوا۔
صوفیہ 19 جون 1985 کو پیدا ہوئی۔
عثمان رانا اور صوفیہ کی شادی 25 دسمبر 2010 کو ہوئی۔
عثمان رانا کا بیٹا ،کاشان مصطفٰے 21 جون 2012 کو پیدا ہوا۔
عثمان رانا کی بیٹی ارفہ 7 دسمبر 2015 کو پیدا ہوئی۔
عثمان رانا کی بیٹی حلیمہ 29 جون 2018 کو پیدا ہوئی۔
محترم علی مشتاق صاحب
علی مشتاق 3 اکتوبر 1986 کو پیدا ہوا-
اقراء علی 14 جنوری 1996 کو پیدا ہوئی۔
علی مشتاق اور اقراء علی کی شادی 17 جنوری 2015 کو ہوئی۔
علی مشتاق – اقراء علی
موسیٰ علی امیرعلی امن علی
علی مشتاق کی بیٹی امن 3 اکتوبر 2016 کو پیدا ہوئی۔
علی مشتاق کا بیٹا امیر 11 دسمبر 2019 کو پیدا ہوا-
علی مشتاق کا بیٹا موسیٰ 10 جنوری 2023 کو پیدا ہوا-
جناب دسوندے خان صاحب
محترمہ عزیزاں صاحبہ زوجہ جناب حاجی بھوپو خاں صاحب
محترم عبدل حکیم صاحب
جناب چھجو خاں صاحب
Comments
Post a Comment