دادا جان بھوپو خان — ٹائم لائن اور خان صاحباں والا محلہ

🕰 ٹائم لائن — دادا جان بھوپو خان صاحب کے گھر اور ہجرت کی کہانی

راوی: چچا سلیم

31 اگست 1947 — شیر پور سے روانگی

  • حاجی صوبیدار بھوپو خان صاحب کا خاندان رات 1 بجے انڈیا کے قصبہ شیر پور سے روانہ ہوا۔
  • منزل: ملیر کوٹلہ (پہلا پڑاؤ)
  • یہ ہجرت وقتی طور پر کی جا رہی تھی، اس لیے دادا جان نے اپنے انتہائی اعتماد والے تین افراد کو گھر، زمین اور مویشیوں کی دیکھ بھال کے لیے وہیں چھوڑا:
    1. مائی سیداں (نیک خاتون)
    2. صدرو گجر
    3. تایا رحمت

2 دسمبر 1947 — پاکستان پہنچنا

  • ملیر کوٹلہ سے خاندان پاکستان کے ضلع گجرات پہنچا۔
  • آزاد پاکستان کا اعلان ہو چکا تھا۔ خاندان کو امید تھی کہ کچھ دن بعد واپس جائیں گے، مگر حالات نے ایسا نہ ہونے دیا۔

شیر پور میں دادا جان کا گھر اور محلہ

  • محلہ کا نام خان صاحباں والا محلہ تھا، جس میں 17 گھر تھے اور سب مسلمان آباد تھے۔
  • شمال کی طرف سے ایک ہی داخلی راستہ تھا۔
  • راستے میں پہلے پرائمری اسکول، پھر دادا جان کی بڑی بیٹھک (30 خانوں والی) آتی تھی، جو صرف ان کی چھٹی پر کھلتی تھی۔
  • بیٹھک کے ساتھ دادا جان کے بڑے بھائی غلام رسول صاحب کا گھر تھا، جو پولیس میں ملازم تھے۔
  • پھر محلے کے دیگر گھروں میں درج ذیل افراد رہتے تھے:
  • نوٹ: ہجرت کے 78 سال بعد ہرجیت سنگھ پتر کار (انڈیا-شیرپور) سے بات ہوئی انھوں نے بتایا کہ آپ کے دادا جان کا گھر پٹوار خانہ بن چکا ہے
  1. سردار رانگڑ — بیوی صدیقاً، اولاد نہیں۔
  2. چچا اقبال — بیوی خورشید، بیٹا جمیل، بیٹی منیراں (معذور)۔
  3. اماں سرخو — بھائی کے ساتھ رہتی تھیں، اولاد نہیں۔
  4. شبیر (چچا ابراہیم کے بیٹے) — بھائی بشیر ہجرت کر کے مہسم اور پھر بچیکی آ گئے۔ والدہ مجیدہ نیک خاتون، دادا بابا غلام غوث (ڈاکخانہ سے ریٹائر، پنشن 4 روپے، کھویا شوق سے کھاتے)۔
  5. غلام نبی جولہا — دو بچے، ایک مجید (چچا سلیم سے دو کلاس پیچھے)۔
  6. شیرو جولہا — بیٹا فقریا، چار بیٹیاں (سیبوں، شیقوں، رجو، ثریا)۔ ہجرت کی مگر ہندو واپس لے آئے۔
  1. کالو جولہا — بیٹا شمس عرف شمہ، بعد میں جلال پور اور پھر فیصل آباد شفٹ ہوئے۔
  2. رمضان جولہا — بیٹا رمضان عرف جانی، جوان موت پر پورا محلہ غمگین۔
  3. صدرو گجر — چار بیٹے (بیداں، جمیل، فضلاں، روشن دین) اور ایک بیٹی۔
  4. رمضان عرف جاناں گجر — دو بیٹے (ایک نتھو) اور ایک بیٹی۔
  5. نوراں — دادا جان کی رشتہ دار، بیٹی انور، داماد افضل۔
  6. آفتاب شاہ — بعد میں بورے والا شفٹ ہوئے، پہلے سبزی بیچی پھر استاد بنے، آخر کار زمین دار ہو گئے۔
  7. رانگڑ ہیموں اور مادھوں — دونوں غیر شادی شدہ، بوڑھے ہونے تک خود کام کاج کرتے۔
  8. کاکا اور خوشی رانگڑ — ایک شادی شدہ، ایک غیر شادی شدہ، ایک کا شہتیر گرنے سے انتقال۔

ہجرت کی رات کا منظر

  • دن کو فیصلہ ہوا، رات کو پورا محلہ جگایا گیا۔
  • دو راک منشی اور حضورا سنگھ کے اونٹوں پر سامان لادا گیا۔
  • ہر طرف رونے دھونے کا عالم، عورتیں ایک دوسرے کے گلے لگ کر رو رہی تھیں۔
  • دادا جان نے تسلی دی:
    "حوصلہ رکھو، ہم جلد واپس آئیں گے۔"
  • محلے والے جانتے تھے کہ آزاد پاکستان بننے کے بعد یہ واپسی ممکن نہیں۔

پیچھے رہ جانے والوں کا انجام

  • مائی سیداں اور صدرو گجر کو ہندوؤں نے قتل کر دیا۔
  • تایا رحمت کو بھی مارنے لگے، مگر ہجوم میں سے کچھ سمجھدار لوگوں نے کہا:
    "یہ خان صاحب کا عزیز ہے۔"
  • اس طرح تایا رحمت کی جان بچی اور انہیں محفوظ علاقے میں بھیج دیا گیا۔

آخری یادیں

  • شیر پور میں دادا جان کے آباؤ اجداد بڑے کلیدی عہدوں پر فائز رہے تھے، اسی لیے وہاں کے لوگ ان کی عزت کرتے تھے۔
  • آج بھی محترم چچا جان رانا محمد سلیم خاں صاحب 1937 میں انڈیا شیرپور میں پیدا ہونے والے سب تفصیل یاد رکھے ہوئے ہیں۔

Comments

Popular posts from this blog

Paternal History

Maternal History